مرسل اعظم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے:
أَنَا وَ عَلِيٌّ أَبَوَا هَذِهِ الْأُمَّة؛
میںٌ اور علیْ اس امت کے باپ ہیں۔
(بحارالأنوار 16 95 باب 6)
جبرئیل نے تڑپ کر آواز بلند کی تھی
ان تَہَدّمَت و اللّٰہ اَرکان الہُدیٰ
اللّٰہ کی قسم ارکان ہدایت منہدم ہو گئے
اور اللّٰہ کا مخلص بندہ اپنے معبود سے ملاقات کا اشتیاق دل میں لیے آواز دے رہا تھا:
فُزتُ وَ رَبّ الکَعبہ
رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہو گیا
اور علی (ع) آج بھی کامیاب ہیں
21 رمضان نمازِ فجر کے وقت، علوی زندگی کا وہ صاف و شفاف چشمہ جو دنیائے اسلام کو ہمیشہ سیر و سیراب کر سکتا تھا، ہم سے چھین لیا گيا لہذا یہ مصیبت ایک دائمی مصیبت ہے اور آج بھی ایک دنیا علی (ع) کے غم میں سوگوار اور ماتم کناں ہے۔
نہ پوچھو آج ہم سے، یہ صدمہ عظیم ہے
مر جائے ایسا باپ تو امت یتیم ہے
"وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”
