آج ایک آیت پہ غور و خوص کرنے کا موقع ملا واللّٰہ بہترین آیت برحق قرآن پورا ہی بہترین ہے مگر جو بات ہم سمجھ جائیں وہ ہمارے لئے بہترین ہوجاتی ہے واللہی:-
جن گھروں سے بلا اجازت کھا سکتے ہیں وہ درج ذیل ہیں:
وَلَا عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ أَن تَأْكُلُوا مِن بُيُوتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ آبَائِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أُمَّهَاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ إِخْوَانِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَخَوَاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَعْمَامِكُمْ أَوْ بُيُوتِ عَمَّاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَخْوَالِكُمْ أَوْ بُيُوتِ خَالَاتِكُمْ أَوْ مَا مَلَكْتُم مَّفَاتِحَهُ أَوْ صَدِيقِكُمْ ۚ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَأْكُلُوا جَمِيعًا أَوْ أَشْتَاتًا ۚفَإِذَا دَخَلْتُم بُيُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ تَحِيَّةً مِّنْ عِندِ اللَّهِ مُبَارَكَةً طَيِّبَةً ۚ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ
(سورہ النور آیت 61 دوسرا حصہ )
ترجمہ: اور نہ خود تم پر اس بات میں کوئی حرج ہے کہ تم اپنے گھروں سے کھاؤ یا اپنے باپ (اولاد کا گھر بھی باپ کا گھر ہوا) کے گھروں سے یا اپنی بڑی ماؤں (نانی دادی) کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا ان کے گھروں سے جن گھروں کی چابیاں تمہارے اختیار میں ہوں یا اپنے دوستوں کے گھروں سے، اس میں بھی کوئی حرج نہیں کہ تم مل کر کھاؤ یا جدا جدا۔۔۔ اور جب تم کسی گھر میں داخل ہو تو اپنے آپ پر سلام کیا کرو اللّٰہ کی طرف سے بابرکت اور پاکیزہ تحیت کے طور پر، اس طرح اللّٰہ اپنی نشانیاں تمہارے لیے کھول کر بیان فرماتا ہے، شاید تم عقل سے کام لو۔
عقلی توجیہ:
ان سب گھروں سے ان کے مالکوں کی اجازت کے بغیر حسب ضرورت کھا سکتے ہیں۔ (فقہ القرآن ۲: ۳۳ )
ائمہ اہل بیت علیہم السلام کی روایت ہے: ان مذکورہ گھروں سے ان کی اجازت کے بغیر کھا سکتے ہیں۔
ہم لوگ اس آیت کا آخری حصہ بہت زور و شور سے بیان کرتے ہیں لیکن اس سے پہلے کا بیان نہیں کرتے جبکہ آخری حصہ پہلے حصے سے مربوط ہے کہ جب ہم کسی گھر میں داخل ہوکے سلام یا سلامتی بھیج دیں گھر والوں پہ، اور اپنے پہ، تو وہ گھر اللّٰہ کی طرف سے بابرکت اور پاکیزہ ہوگیا اور ہم اس میں سے کھا سکتے ہیں
واللہ بہترین۔
ان ”بیوت“ سے کونسے گھر مراد ہیں؟ بعض مفسرین مذکورہ بالا گیارہ گھروں کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں،
لیکن واضح ہے کہ آیت مطلق ہے اور ا س سے تمام گھر مراد ہوسکتے ہیں چاہے وہ مذکورہ گیارہ گھروں میں ہوں کہ جن میں آدمی کھانے کے لئے جاتا ہے یا دیگر رشتے داروں اور دوستوں کے گھر کیونکہ آیت کے وسیع مفہوم کو محدود کرنے کے لئے کوئی دلیل نہیں موجود نہیں ہے ۔
یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن
قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن
(علامہ اقبال)
"وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”
