اپنی پہچان

موجودہ دور میں مشکل یہ آن پڑی ہے کہ جب علمِ باطن کا کوئی مسئلہ سامنے آتا ہے تو ان قرآنی آیات کو جن میں علمِ باطن کے متعلق واضح اور روشن ہدایات موجود ہیں کچھ لوگ متشابہات کہہ کر آگے گزر جاتے ہیں۔ اور آج کل کے دور میں یہی ہماری گمراہی کی بڑی وجہ ہے کہ ہم نے اپنے ”باطن” کو فراموش کردیا ہے اور صرف ظاہر کی طرف متوجہ ہوگئے ہیں۔ اور یہی ہماری گمراہی کا سبب ہے کہ آج کا انسان آفاق میں گم ہے اور اگر وہ اپنی ہستی کو پہچان لے تو ”آفاق” اس کو اپنے اندر دکھائی دے گا۔

کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گُم ہے
مومن کی یہ پہچان کہ گُم اس میں ہیں آفاق!
(علامہ اقبال)

قرآنِ مجید میں بھی باربار انسان کے باطن کی طرف توجہ دلائی گئی ہے:
-وَفِي أَنفُسِكُمْ ۚ أَفَلَا تُبْصِرُونَ
اور خود تمہارے اندر بھی – کیا تم نہیں دیکھ رہے ہو
(الذاریات۔ آیت 21)

وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ
اور ہم اس سے رگ گردن سے زیادہ قریب ہیں۔
(ق۔آیت 16 کا حصہ)

أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَٰهَهُ هَوَاهُ
(اے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) آپ نے ایسے شخص کو دیکھا جس نے اپنی نفسانی خواہشات کو ا لہٰ (معبود) بنا لیا ہے ۔(الجاثیہ۔آیت 23 کا حصہ)

أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوا فِي أَنفُسِهِم ۗ
ترجمہ : کیا وہ اپنے اندر فکر نہیں کرتے ۔
(الروم۔آیت 8کا حصہ)

“وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”

تبصرہ کریں