شبِ برآۃ

شب برات کا کیا مطلب ہے؟
براۃ کے معنیٰ ہیں نجات، اور شبِ برات کا معنیٰ ہے گناہوں سے نجات کی رات۔ گناہوں سے نجات توبہ سے ہوتی ہے۔ یہ رات مسلمانوں کے لئے آہ و گریہ و زاری کی رات ہے، رب کریم سے تجدید عہد نجات کی رات۔ شیطانی خواہشات اور نفس کے خلاف جہاد کی رات ہے، یہ رات اللَّه کے حضور اپنے گناہوں سے زیادہ سے زیادہ استغفار اور توبہ کی رات ہے۔ اسی رات نیک اعمال کرنے کا عہد اور برائیوں سے دور رہنے کا عہد دل پر موجود گناہوں سے زنگ کو ختم کرنے کاموجب بن سکتا ہے
بعض احادیث کے مطابق پندرہ شعبان کی رات جسے شب برات بھی کہا جاتا ہے، شب قدر کے بعد افضل ترین راتوں میں شمار ہوتی ہے اور اکثر شب قدر کی مانند اس رات کو بھی شب بیداری اور عبادت کی حالت میں گزارتے ہیں احادیث میں پیغمبر اکرمؐ اور ائمہ معصومین سے پندرہ شعبان کی رات شب بیداری اور عبادت انجام دینے کی بہت زیادہ سفارش ہوئی ہے۔ منجملہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ: جبرئیل نے پیغمبر اکرمؐ کو پندرہ شعبان کی رات نیند سے بیدار کیا اور نماز پڑھنے، قرآن کی تلاوت کرنے اور دعا و استغفار کی سفارش کی۔[مجلسی، بحارالانوار، بیروت، دارالاحیاءالتراث العربی، چاپ سوم، ۱۴۰۳ق ج ۹۸، ص۴۱۳.]

اس رات کی ایک اور اہمیت اس حوالے سے بھی ہے کہ فجر کے وقت امام زمان (عج) کی ولادت باسعادت بھی ہے۔ اس حوالے سے سب مومنین و مومنات کی خدمت میں مبارک پیش کرتے ہیں
سب سے اہم بات اس رات جتنے بھی اعمال ہیں وہ قبولیت کی منزل پہ اس وقت جائیں گے جب ہم اپنے واجبات کی پابندی کرتے ہوں گے کیونکہ یہ تمام اعمال مستحبات میں ہیں اور اس وقت قبول ہوں گے جب ہم واجبات کے پابند ہوں اس کو یہ سمجھیں یہ ہماری ایکسٹرا ایکٹیویٹیز (Extra activates) ہیں

ہوچکی ہے جو مجھ سے خطا بخش دے
بخش دے بخش دے اے خدا بخش دے
(نعیم رضا)

پروردگار سے دعا ہے کہ ہم کو حقیقت سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق دے بدعات سے نجات دے
آمین یا رب العالمین

(اگر کسی کا دل ہماری کسی بات سے دکھا ہو تو نہایت معذرت )

"وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”

تبصرہ کریں