نِسَآؤُکُمۡ حَرۡثٌ لَّکُمۡ ۪ (البقرہ کی آیت 223 کا پہلا حصہ )
ترجمہ: تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں
کھیتی کے لئے پہلے کھیت کو تیار کیا جاتا ہے زمین کو بہت پیار سے بہت احتیاط سے متوازن مٹی متوازن کھاد سے سینچا جاتا ہے اسکی دیکھ بھال کی جاتی ہے اس کو غذا (فرٹیلائیزر) فراہم کی جاتی ہے ہر موسم کے لحاظ سے اس کی آبیاری کی جاتی ہیں
اسکا خیال رکھا جاتا ہے جب جاکے وہ کھیتی بنتی ہے اسکی پیداوار بہترین ہوتی ہے اور کھیتی سے ایک دفعہ فصل کا فائدہ اٹھا کے اسکو دوبارہ اگلی فصل کے لئے بھی تیار کیا جاتا ہے اسکی جتنی اچھی دیکھ بھال ہوگی وہ اتنا ہی اچھا پھل یا فصل دے گی ورنہ جھاڑ جھنکار تو جنگل میں بھی پیدا ہوتے ہیں مگر کھیت کی پیداوار اور جھاڑ جھنکار میں فرق ہوتا ہے
نہیں نو امید میں اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زر خیز ہے ساقی
(علامہ اقبال)
مسلمانوں نے فقط کھیت کو استعمال کرنے کا حکم مان لیا اس کو سمجھنے سے نابلد رہے اگر عورتیں کھیتیاں ہیں تو مرد بھی اپنے کو کسان سمجھے اور کسان کے جو کام ہیں وہ سرانجام دے، قرآن نے کھیت کہہ کے شوہر کو اسکے فرائض یاد دلائے ہیں صرف حقوق لینے کا نہیں کہا ہے
اس بات کو انسان سمجھ لے تو حقوق و فرائض سمجھ میں آجائے قرآن کی ہر آیت میں تفکر کرنے کا حکم ہے جب ہی وہ ہماری ہدایت کا سامان مہیا کرے گا جَزَاكُمُ اللّٰہُ خَيْرًا كَثِيْرًا
“وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”
