لَّعَنَہُ اللّٰہُ ۘ وَ قَالَ لَاَتَّخِذَنَّ مِنۡ عِبَادِکَ نَصِیۡبًا مَّفۡرُوۡضًا
﴿النساء/ 118﴾ۙ
اللّٰہ نے اس (شیطان ) پر لعنت کی اور
اس (شیطان ) نے اللّٰہ سے کہا: میں تیرے بندوں میں سے ایک مقررہ حصہ ضرور لے کر رہوں گا۔
نَصِیۡبًا مَّفۡرُوۡضًا: شیطان بندوں کی تمام چیزوں، حتیٰ کہ مال و اولاد اور عبادت میں سے بھی ایک قابل توجہ حصہ اپنے لیے لیتا ہے۔
یعنی عبادت میں خلوص جس قدر کم ہو گا، اسی مقدار میں شیطان کا حصہ زیادہ ہو گا۔
ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ شیطان کبھی بھی ہمارے دل میں اچانک نہیں آتا، اور ہماری روح کے باڈر سے بغیر پاسپورٹ کے داخل نہیں ہو سکتا، اس کا حملہ کبھی بھی اچانک نہیں ہوتا، وہ ہماری اجازت سے ہم پر سوار ہوتا ہے، جی ہاں وہ دروازہ سے آتا ہے، کسی مورچہ سے نہیں، یہ ہم ہی ہیں جو اس کے لئے دروازہ کھول دیتے ہیں،
کیا ہنسی آتی ہے مجھ کو حضرت انسان پر
فعل بد خود ہی کریں لعنت کریں شیطان پر
(انشاء خان انشاء)
جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
اِنَّہٗ لَیۡسَ لَہٗ سُلۡطٰنٌ عَلَی الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَلٰی رَبِّہِمۡ یَتَوَکَّلُوۡنَ
﴿النحل / 99﴾
اِنَّمَا سُلۡطٰنُہٗ عَلَی الَّذِیۡنَ یَتَوَلَّوۡنَہٗ وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ بِہٖ مُشۡرِکُوۡنَ
﴿النحل / 100﴾
” شیطان ہرگز ان لوگوں پر غلبہ نہیں پاسکتا جو صاحبان ایمان ہیں اور جن کا اللّٰہ پر توکل اور اعتماد ہے، اس کا غلبہ صرف ان لوگوں پر ہوتا ہے جو اسے سرپرست بناتے ہیں اور اللّٰہ کے بارے میں شرک کرنے والے ہیں“۔
“وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
”روبی عابدی“
