* ذکر*

استاد الهی قمشه‌ای فرماتے ہیں:
اگر کہیں ذکر کرو، پڑھو، اس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ تسبیح اٹھاؤ اور یہ کہنے لگ جاؤ:
یا اللَّه، یا رحمان، یا رحیم و … ،!
یہ ذکر نہیں ہیں.

ذکر یہ ہے کہ اللَّه تعالی کی ذات ہماری ساری زندگی میں ہو.

مثلاً اللَّه تعالی کا ایک نام جمیل (خوبصورت) ہے، تو ضروری ہے ہمارا معمار ہو، ہماری رفتار و گفتار میں، ہمارے لباس میں، ہمارے ظاہر اور باطن میں، ہماری گفتگو کرنے میں خوبصورتی ہو۔

اب ہم خود دیکھیں کہ یہ جمیل، یہ خوبصورتی کہاں ہے!؟
جبکہ ہم کہتے ہیں ہم ذاکر ہیں، ذکر کرنے والے ہیں!
لیکن کیا ہمیں اپنے میں ذاکر کی کوئی خصوصیات نظر آتی ہیں؟
اگر ہم اللّٰہ تعالی کے اسماء کے ذاکر نہیں ہیں تو ہماری زندگی سخت ہو جاتی ہے ، اور ہم تنگ دست ہو جاتے ہیں

اللّٰہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں
فیضانِ محبت عام سہی عرفانِ محبت عام نہیں
(جگر مرادآبادی )

“وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
”روبی عابدی“

تبصرہ کریں