غور و فکر سے عقل کی روشنی بڑھتی ہے۔
قرآن میں بھی تفکر کرنے پہ زور دیا گیا ہے
جس میں فکر کی عادت نہیں اُس کے لیے کوئی بصیرت نہیں۔
غوروفکر کرنے سے بصیرت پیدا ہوتی ہے اور عبرت حاصل ہوتی ہے۔
غورکا انجام کامیابی اور غفلت کا نتیجہ محرومی ہے۔
نصیحت دوسروں کے حال پر غور کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔
اس لئے سیدھا(بےوقوف)، سوچ سمجھ کے ہونا چاہئے
جنگل میں سیدھے درخت کٹ جاتے ہیں
ٹیڑھے میڑھے درخت کھڑے رہتے ہیں 😁
کل رات جو ایندھن کے لیے کٹ کے گرا ہے
چڑیوں کو بہت پیار تھا اس بوڑھے شجر سے
(پروین شاکر)
“وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
”روبی عابدی“
