اَلسَلامُ عَلَيْكُم
“علم کو صرف زبانی تبلیغ سے ہی نہیں قلم سے بھی پھیلانا ہے “
الَّذِیۡ عَلَّمَ بِالۡقَلَمِ ۙ﴿العلق/ 4﴾
عَلَّمَ الۡاِنۡسَانَ مَا لَمۡ یَعۡلَمۡ ؕ﴿العلق / 5﴾
جس نے قلم کے ذریعے سے تعلیم دی۔
اس نے انسان کو وہ علم سکھایا جسے وہ نہیں جانتا تھا۔
قرآن کی یہ آیت واضح کررہی ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کے فضل کرم میں سے ایک اہم چیز قلم کے ذریعے تعلیم ہے
چنانچہ قلم ہی کی وجہ سے گزشتگان کے تجربات آنے والی نسلوں کو منتقل ہوتے اور ان سے آگے بڑھتے ہیں۔
اس طرح کتابت کی وجہ سے تہذیبیں وجود میں آئیں۔ تمدن کا وجود بھی قلم کے مرہون منت ہے۔ قلم سے بڑھ کر تعلیم کا ذریعہ کوئی نہیں ہے۔
شاید اسی لئے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے قلم و قرطاس (کاغذ) مانگا تھا مگر آس پاس والوں کو بھی اندازہ تھا کہ لکھنے سے تعلیم عام ہوجائے گی مگر شاید آس پاس والوں کی دور اندیشی نے دھوکا دے دیا کہ حضورٌ بھی اللّٰہ کے رسول ہیں کوئی کام اللّٰہ کی مرضی کے خلاف نہیں کرسکتے تھے اگر وہ خاموش رہتے کچھ نہ طلب کرتے تو یقینا اس آیت کا حق ادا نہیں ہوتا کہ
یٰایُّہَا الرَّسُوۡلُ بَلِّغۡ مَا اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ ؕ وَ اِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلۡ فَمَا بَلَّغۡتَ رِسَالَتَہٗ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡصِمُکَ مِنَ النَّاسِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡکٰفِرِیۡنَ﴿المائدہ / 67﴾
اے رسولٌ! جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دیجئے اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو گویا آپ نے اللّٰہ کا پیغام نہیں پہنچایا اور اللّٰہ آپ کو لوگوں (کے شر) سے محفوظ رکھے گا، بے شک اللّٰہ کافروں کی رہنمائی نہیں کرتا۔
حضورٌ نے قلم و قرطاس مانگ کر تاقیامت کے لئے یہ بات قلم بند کروادی کہ لوگ پوچھتے رہیں
کیوں مانگا تھا؟ اور کس نے نہیں دیا؟
مسئلہ تو وہیں حل ہوگیا
قلم و قرطاس نہ ملنے پہ بھی قیامت تک کے لئے قلم بند کروادیا سُبْحَانَ اللّٰہ
کیا ہنسی آتی ہے مجھ کو حضرت انسان پر
فعل بد خود ہی کریں لعنت کریں شیطان پر
(انشاء خان انشاء)
“وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
”روبی عابدی“
