اَلسَلامُ عَلَيْكُم
اسلام کی حقیقت ایمان میں چھپی ہے
صرف زبان سے اقرار ایمان نہیں ہے
تصدیق بالقلب اور عمل بہ ارکان ضروری ہے
ایمان کا کیسے پتا چلے؟
اسکا ایک واضح کلیہ ہے
مثلا نماز کا وقت ہے اور ہم نماز پڑھ سکتے ہیں مگر ہم دوسرے کام میں مصروف رہے اسکا مطلب ہم نے نماز کو اہمیت نہیں دی اسی ترتیب سے تمام واجبات و مستحبات ہیں
ہماری ترجیحات تعین کرتی ہے کہ ہمارا ایمان کیسا ہے؟
مومن ہمیشہ دین کو ترجیح دیتا ہے
ایمان کی توفیق نہ ہو تو رسولٌ و آئمہࣿ کے قریب تر ہونا بھی فائدہ نہیں دیتا
اُولٰٓئِکَ عَلٰی ہُدًی مِّنۡ رَّبِّہِمۡ ٭ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ﴿البقرہ / 5﴾
یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر (قائم) ہیں اور یہی فلاح پانے والے ہیں۔
الہی طاقت ایمان پھر ہم کو عطا کر دے
خداوندا ہمیں رازِ خودی سے آشنا کر دے
(راز دہلوی)
آمین یا رب العالمین
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
”روبی عابدی”
