* کلام الہی *

قرآن مجید صرف کتاب نہیں یہ کلامِ الہی ہے۔
اس لئے یہ عربی زبان میں بھی نہیں ہے۔
یہ عقل کی زبان میں ہے۔

ہر لفظ کو سینے میں بسالو تو بنے بات
طاقوں میں سجانے کو یہ قرآن نہیں ہے
(ماجد دیوبندی)

اور جب ہم قرآن کی تلاوت کرتے ہیں تو در اصل اللّٰہ جل جلالہ ہماری عقل کے مطابق ہم کو اپنا کلام سمجھاتا ہے۔
اس لئے ہر انسان اس سے اپنی ضرورت، اپنی سطح فکری اور اپنے علمی تخصص کے دائرے میں رہ کر ہدایت
حاصل کر لیتا ہے۔
اس بات کو اگر سمجھ لیا جائے تو قرآن مجید سے انسانی تفکر و تدبر اور فہم کو ترقی حاصل ہو
دوسرے یہ کہ قرآن فہمی میں جو مختلف سطحوں اور موضوعات میں اختلاف موجود ہیں ان سے باہمی تشنج اور جھگڑے ختم ہو کر صبر و شکیبائی اور پیار محبت بڑھے
اور عالم انسانیت امن و امان اور پیار محبت کا گہوارہ بن جائے۔
آمین یا رب العالمین

کلام رب کے ایک اک لفظ میں گہرائی ہوتی ہے
وہی پڑھتا ہے جس کے ذہن میں بینائی ہوتی ہے
(شبینہ ادیب )

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
”روبی عابدی”

تبصرہ کریں