* اللّٰہ رحمٰن اور رحیم ہے *

سوال: اللّٰہ نے ہمارے لئے جو چیزیں قرآن میں بیان کی ہیں اس سے ہمیں صرف خوف کیوں سکھایا جاتا ہے؟

جواب: اللّٰہ کی بات کو سمجھنے کے لئے پہلے اس کے مزاج کو سمجھنا ضروری ہے اللّٰہ کا ہمارے ساتھ تعلق پتا ہونا ضروری ہے
سب سے پہلے یہ بات ماننا پڑے گی کہ وہ کسی پہ ظلم نہیں کرتا سب پہ رحم کرتا ہے
جب تک اللّٰہ کو رحمن و رحیم نہیں سمجھیں گے قرآن کو سمجھنا ممکن نہیں ۔۔۔۔۔
اللّٰہ کی رحمت اور مغفرت کو اور اللّٰہ کا ہمارے گناہوں سے پردہ پوشی کو دیکھیں گے تو پھر یہ سمجھ میں آئے گا کہ عذاب کیا ہے؟

خلاف عقل کسی سے توقع رکھنا اچھا نہیں ہے
اللّٰہ سے بھی یہ توقع رکھنا غلط ہے کہ وہ فقط ہمیں عذاب دینے کے انتظار میں ہے

‏‎قرآن کا مخاطب عقل و فکر ہے اور عقل استعمال کرنے والے اور فکر کرنے والوں سے کہا جارہا ہے

‏‎لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ
‏‎ (الجاثیہ / 13)
ترجمہ: غور و فکر کرنے والی قوم کے لئے ۔

سکھا دیا مجھے بچ بچ کے راستہ چلنا
خدا بھلا کرے اے شادؔ نکتہ چینوں کا
(شاد عظیم آبادی)

ہماری درخواست ہے کہ ہم سب قرآن کی تلاوت باترجمہ اپنا معمول بنائیں اور
دعا ہے کہ پروردگار ہم سب کو اپنی زندگیوں کو قرآن کی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کی توفیق عطا فرمائے
آمین یا رب العالمین

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
"روبی عابدی “

تبصرہ کریں