ہمیں اپنے تمام تصورات کو تجدید (renew )کرکے نئی حکمت عملی اختیار کرنا چاہئے
لَقَدۡ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اِذۡ بَعَثَ فِيۡهِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡ اَنۡفُسِهِمۡ يَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِهٖ وَيُزَكِّيۡهِمۡ وَيُعَلِّمُهُمُ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ ۚ وَاِنۡ كَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ لَفِىۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ
(آل عمران / 164)
ترجمہ: اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے مومنین پہ یہ بہت بڑا احسان کیا کہ ان ہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کے لئے ہمارے احکام کو بیان کرتا ہے اور ان کو پاکیزہ بناتا اور ان کو کتاب اور حکمت اور دانائی کی تعلیم دیتا اور اس سے پہلے وہ بھٹک رہے تھےکھلی گمراہی میں ۔۔
ثواب یہ ہے کہ ہمارے عمل کی تاثیر ایسی ہو کہ خود ہم سکون میں آجائیں اور پاکیزہ نفس ہوکے اللّٰہ کے بندے ہونے کی سعادت حاصل کرلیں اور اس میں دوسروں کو بھی شامل کرلیں تو سکون کی کیفیت الگ ہوگی یہ ہے ثواب!
یہ ہے عمل کو دوام دینا عمل کی مداحمت کا اثر ہی ہے کہ ابدی رہے اور لامحدود ہو۔ یہ ہے عمل کا اخلاص عمل کا ثواب
وَيُزَكِّيۡهِمۡ یعنی تمام الجھن سے آزاد ہوجائے
ہمیں قرآن کو لغت اور تحریری عبارت کے ساتھ ساتھ صوتی اشاروں سے بھی سمجھنے کی کوشش کرنا چاہئے
منہ زبانی قرآن پڑھتے تھے
پہلے بچے بھی کتنے بوڑھے تھے
(محمد علوی)
پروردگار عالم! ہمیں صحیح معنوں میں سیرت معصومین علیہم السلام پر چلتے ہوئے دین کو سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرما!. (آمین یا رب العالمین )
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
“روبی عابدی”
