قرآن حکیم کتاب ہے ہی نہیں یہ تو کلامِ الہی ہے۔
اس لئے یہ عربی زبان میں بھی نہیں ہے۔
یہ عقل کی زبان میں ہے۔
اور جب کوئی قرآن کو تلاوت کرتا ہے تو در اصل اللّٰہ جل جلالہ اسکی عقل کے مطابق اس کو اپنا کلام سمجھاتا ہے۔
اس لئے ہر انسان اس سے اپنی ضرورت،
اپنی سطح فکری اور اپنے علمی تخصص کے دائرے میں رہ کر اللّٰہ سے ہدایت حاصل کر لیتا ہے۔
تو میرے سجدوں کی لاج رکھ لے شعور سجدہ نہیں ہے مجھ کو
یہ سر ترے آستاں سے پہلے کسی کے آگے جھکا نہیں ہے!!!
اس بات کو اگر سمجھ لیا جائے تو
ایک تو قرآن مجید سے انسانی تفکر و تدبر اور فہم کو ترقی حاصل ہو
دوسرے یہ کہ قرآن فہمی میں جو مختلف سطحوں اور موضوعات میں اختلاف موجود ہیں
ان سے باہمی تشنج اور جھگڑے ختم ہو کر صبر و شکیبائی
اور پیار محبت بڑھے اور عالم انسانیت امن و امان اور پیار محبت کا گہوارہ بن جائے۔
دعا ہے کہ پروردگار ہم سب کو اپنی زندگیوں کو قرآن کی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کی توفیق عطا فرمائے
آمین یا رب العالمین
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
"روبی عابدی “
