اہل بیت(ع) کی ثقافت کو زندہ رکھنا:
مجالس اور جلوسوں میں کچھ اصولوں کا خیال رکھنا چاہیے:
معصومْ کی حدیث ہے کہ عزاداری کی مجالس میں اہلبیت کی تعلیمات کو اجاگر کیا جائے:
قال جعفر بن محمد الصادق (ع) تلاقوا و تحادثوا و تذاكروا فإن في المذاكرة إحياء أمرنا رحم الله امرأ أحيا أمرنا.
امام صادق (ع) نے فرمایا ہے کہ: آپس میں ملاقات کرو، اور آپس میں ایک دوسرے سے باتیں کرو، پس جو باتوں باتوں میں ہمارے امر (ولایت و امامت) کو زندہ کرے گا تو خداوند اس شخص پر اپنی خاص رحمت نازل کرے گا۔
(بحار الانوار ، ج 1 ، ص 200)
خطیب کے منبر پر جانے سے یا ایک نوحہ خواں کے نوحہ پڑھنے سے سامعین کی فکری سطح اور سوچ میں تبدیلی آنی چاہیے۔
مقرروں میں بصیرت نظر نہیں آتی
حسینیت سے محبت نظر نہیں آتی
کہیں خلوص کی دولت نظر نہیں آتی
ہے نوحہ خوانوں کےانداز میں اداکاری
رہا نہ یاد ہمیں مقصدِ عزاداری
(فراست)
اگر خطیب کی تقریر سے لوگوں کے علم میں اضافہ ہوتا ہو اور لوگوں کی فکری سطح اور سوچ میں تبدیلی آتی ہو اور لوگوں کے اخلاق ، کردار اور گفتار میں مثبت تبدیلی آتی ہے، تو اس خطیب اور نوحہ خواں نے اہلبیت کے امر کو زندہ کیا ہے۔
حریص زر ہے یہاں ذاکرانِ شعلہ نواء
فروخت ہوتے ہیں ممبر بنام عصر عزاء
بھلائے بیٹھے ہیں ہم آج درس کرب و بلا
گئی نہ حبِ زمانہ کی دل سے بیماری
رہا نہ یاد ہمیں مقصدِ عزاداری
(فراست)
سامعین کو بھی چاہیے کہ اہل علم خطیب کے نصائح پر عمل کر کے اہلبیت کے امر کو زندہ کریں
(اقتباس)
"وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”

Baishaq ☝️⚘
پسند کریںLiked by 1 person