ذہنی سکون

السلام علیکم

"ذہنی سکون

زندگی میں صرف ایک کام کرنا چاہئے خوش رہنے کی کوشش کرنا چاہئے

قرآن کی سوره الرعد کی ایک آیت:

اَلَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوْبُـهُـمْ بِذِكْرِ اللّـٰهِ ۗ اَلَا بِذِكْرِ اللّـٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ (28)

یعنی وه لوگ جو ایمان لائے اور جن کے دل اللَّه کی یاد سے مطمئن ہوتے ہیںسنو اللَّه کی یاد ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے

قرآن کی اس آیت میں اطمینانِ قلب سے مراد ذہنی سکون ہےانسان جب ذہنی سکون سے محروم ہوتا ہے تو اس کا سبب صرف ایک ہوتا ہے ، اور وه ہے اللَّه کے تخلیقی نقشہ پر راضی نہ ہوناانسان جب اللَّه کے تخلیقی نقشہ پر راضی ہو جائے تو اسی کا نام ذہنی سکون ہے ،

اور جب اللَّه کے تخلیقی نقشہ پر راضی نہ ہو تو اس سے وه چیز پیدا ہوتی ہے جس کو ذہنی سکون سے محرومی کہا جاتا ہے

اسکو حاصل کرنے کے لئے ایک فلسفہ ہے جس کو اپنانا پڑتا ہے لمحہ بہ لمحہ، یہ ایک ایسا فلسفہ ہے کہ اگر ہم اس پہ عمل نہیں کریں گے تو ہمیں محسوس بھی نہیں ہوگا

اس بات کو

A Guide to the Good Life: The Ancient Art of Stoic Joy

William B. Irvine

میں آرتھر نے بہت آسان کردیا اس نے کہا

پہلا اصول:-

جو کچھ ہمارے پاس ہے اسکو چاہیں اور پسند کریں

اور جو ہمارے پاس نہیں ہے اسکو رد کردیں۔

دوسرا اصول:-

وہ کہتا ہے کہ منفی جذبات (negative emotion ) کو ہم اپنے دماغ سے نکالیں، اور یہ نکالے جاسکتے ہیں

محنت کی طاقت سے، ایکشن کے ساتھ

Because we every thought will something

فیض صاحب کا شعر ہے

بربادئِدلجبرنہیںفیضکسیکا

وہ دشمنِ جاں ہے تو بُھلا کیوں نہیں دیتے

غالب کچھ اس طرح کہتے ہیں کہ

لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی

چمنزنگارہےآئینۂبادِبہاریکا

تیسرا اصول:-

جن لوگوں سے ہم کو خوشی ملتی ہے جب وہ ہمارے پاس ہوں چاہے وہ والدین ہوں، اولاد ہوں بہن ہو بھائی ہوں یا جو بھی ہو وہ لمحہ ضائع نہ کریں کسی بھی اور بات سوچنے پہ۔۔۔

اشفاق صاحب کی تھیوری ہے کافی پرانی ہے کہ

ایک پَل ہے جو گزر گیا ہےاس پہ کڑھنے کا کیا فائدہ

ایک پَل ہے جو آیا نہیں اس سے ڈرنے کا کیا فائدہ

اس کتاب کے آرتھر کا خیال یہ ہے خوشی کے لئے ضروری ہے ذہنی سکون

یعنی کڑھنا نہیں ہے

اب negative emotion کیا ہوتا ہے

حسد، نفرت اور غصہ

یہ سب نیگیٹو ایموشن ہیں

تعصب، حسد، جہالت، بےصبری۔

اور پھر یہ خیال کہ باقی سب غلط ہیں ہم ہی ٹھیک ہیں

ایک بات اور کہی ہےکہ

"انسان کی جبلت اور خاصیت میں شامل ہے کہ اسے پسند کیا جائے

لوگ کہیں کہ ہم اچھے ہیں

او بھئی،🤔

ہم میں کچھ ہو تو ہم کو پسند کیا جائے نا؟ 🙄🙄

تو ہم نے پیدا کرنی ہے وہ سب چیزیں اپنے اندر۔

منیر نیازی کا شعر کہ

وہم مجھ کو عجب ہے اے جمالِ کم نماء

کہ سب کچھ ہو اور تو دید کے قابل نہ ہو

دید کے قابل ہوں گے تو ہم کو پسند کیا جائے گا

اگر ہم مغرور ہیں تو کون ہم کو پیار کرے گا

اگر ہمارے گردن میں سریا ہے

ہم دوسروں کو حقیر سمجھتے ہیں

Why would anybody like me

اگر ہم اعتبار کے قابل نہیں ہیں تو،

اگر ہمیں کوئی بات بتائےتو ہم سے چھپتی نہیں ہے تو،

ہمارے اندر وہ چیزیں ہونی چاہیئے جس کی وجہ سے لوگ ہم کو پسند کریں گے

یا ہم چاہیں سب ہم کو پسند کریں

تو

اسکے لئے ہمیں خود میں وہ سب کچھ سب پیدا کرنا ہوگا

حسنِ اخلاق میں ایک ٹِکا خرچ نہیں ہوتا اور مسکرا کے بات کرنے سے ایک ڈھیلا نہیں جاتا جیب سے۔

آئیے ہم ایک ہفتہ خوش اخلاقی کا منائیں

ایک ہفتہ مسکرانے کا منائیں

صبح جب اٹھیں تو ہر ایک سے مسکرا کے ہم کلام ہوں

زیادہ سے زیادہ یہی ہوگا کہ لوگ کہیں گے پاگل ہے 😊

مگر ہماری بات مانیں صرف یہ دو ہفتے کی محنت سے ہی ہم اپنے اندر تبدیلی دیکھیں گے۔

اور یہی تبدیلی ہم کو ذہنی سکون دے گی انشاء اللَّہ!

الله تعالیٰ ہم سب کی توفیقات میں اضافہ فرمائے۔

"آمین یا رب العالمین

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی

سورہ طہ "47”

التماسِ دعا

روبی عابدی

“ذہنی سکون” پر 1 تبصرے

Leave a reply to Bisal Sadia جواب منسوخ کریں