جھوٹ

السلام علیکم
آج کی یہ پوسٹ بہت سے لوگوں کی فرمائش پہ کررہے ہیں سوشل میڈیا پہ اکثر فیک آئی ڈیز بنانے والے بھی اسی زمرے میں آتے ہیں یہ بھی جھوٹ کی ہی ایک قِسم ہے

گناھانِ کبیرہ میں
‎سترہواں ایسا گناہ جس کے کبیرہ ہونے کی صراحت موجود ہے۔ جھوٹ بولناہے۔ شیخ انصاری علیہ الرّحمہ کتاب ” مکاسبِ ” میں فرماتے ہیں: "جھوٹ بولنا نہ صرف یہ کہ عقلی اعتبار سے یقینا حرام ہے، بلکہ تمام آسمانی ادیان، خصوصا ًاسلام کے لحاظ سے یہ حرام ہے نہ صرف قرآن ِمجید بلکہ احادیث اجماع اور عقل، ادلّہ اربعہ سے جھوٹ کا حرام ہونا ثابت ہے۔

سب سے پہلے جھوٹ کا مطلب کیا ہے؟
جھوٹ کے معنی نا درست بات،
حقیقت اور واقعیت کے خلاف،
ناحق قول اور کسی سے ایسا قول نقل کرنا ہے جو کہ اس نے نہ کہا ہو.
گذشتہ ہو یا آئندہ،
وعدہ ہو یا اس کے علاوہ.
سچ کے خلاف اور واقع کے خلاف خبر
اگرچہ جان بوجھ کر ہو یا غلطی سے ہو.
اس کے اصطلاحی معنی واقع کے خلاف بات کا اظہار اور حقیقت کے برعکس بات کرنا ہے
جھوٹ انسان کی سب سے بڑی اور بدترین صفات میں سے ایک ہے.
جھوٹ ایک کبیرہ گناہ ہے اور قرآن اور حدیث میں اس سے منع کیا گیا ہے. حدیث میں ہے کہ جھوٹ گناہوں کی چابی اور ایمان کی تباہی کا باعث بنتا ہے.
قرآن کی متعدد آیات میں جھوٹ کی مذمت کی گئی ہے:
قرآن کی چند آیات میں آیا ہے کہ جھوٹا انسان خداوند کی لعنت کا مستحق اور پروردگار کے غصے کا حقدار ہے.
لَّعْنَتَ ٱللَّهِ عَلَى ٱلْكَٰذِبِينَ (سورہ آل عمران/61)
جھوٹوں پر خدا کی لعنت قرار دیں
وَٱلْخَٰمِسَةُ أَنَّ لَعْنَتَ ٱللَّهِ عَلَيْهِ إِن كَانَ مِنَ ٱلْكَٰذِبِينَ
اور پانچویں مرتبہ یہ کہیں کہ اگر وہ جھوٹے ہیں تو ان پر اللَّه کی لعنت ہے[سورہ نور/7]
پروردگار سورہ صف میں فرماتا ہے:
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ
ایمان والو آخر وہ بات کیوں کہتے ہو جس پر عمل نہیں کرتے ہو (سورہ الصف/2)
كَبُرَ مَقْتًا عِندَ ٱللَّهِ أَن تَقُولُوا۟ مَا لَا تَفْعَلُونَ
اللَّه کے نزدیک یہ سخت ناراضگی کا سبب ہے کہ تم وہ کہو جس پر عمل نہیں کرتے ہو (سورہ الصف /3)

قرآن میں ایک اور جگہ پر پروردگار فرماتا ہے:
إِنَّمَا يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِآيَاتِ اللَّـهِ وَأُولَـئِكَ هُمُ الْكَاذِبُونَ [النحل/105]
ترجمہ : ”جھوٹ افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو اللَّه کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے۔ اور وہی جھوٹے ہیں.“

ان آیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم کو حتی الامکان جھوٹ سے بچنا چاہئے
جھوٹے انسان کی اللَّه کی نگاہ میں اس قدر مذمت ہوئی ہے کہ اسے بے ایمان کہا گیا ہے اور کوئی بے ایمان فرد مومن نہیں ہو سکتا.
ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى مَنْ هُوَ كَٰذِبٌ كَفَّارٌ (سورہ الزمر/3)
اللَّه کسی بھی جھوٹے اور ناشکری کرنے والے کو ہدایت نہیں دیتا ہے
روایات میں پیغمبر اکرم(ص) نے فرمایا: جھوٹ سے پرہیز کریں، کیونکہ جھوٹ انسان کے چہرے کو سیاہ کردیتا ہے.[محدث نوری، ج ۹، ص۵۰.]
کسی نے رسول خدا(ص) سے پوچھا: کونسا عمل آگ میں داخل ہونے کا سبب بنتا ہے؟ آپ(ص) نے فرمایا: جھوٹ، کیونکہ جھوٹ فجور کا سبب ہے اور فجور کفر کا اور کفر کے سبب انسان آگ میں ڈالا جائے گا۔[مستدرک، ج۹، ص۸۹]
امام زین العابدین کا فرمان ہے کہ:
اتَّقُوا الْكَذِبَ الصَّغِيرَ مِنْهُ وَ الْكَبِيرَ فِي كُلِّ جِدٍّ وَ هَزْلٍ ، فَإِنَّ الرَّجُلَ إِذَا كَذَبَ فِي الصَّغِيرِ اجْتَرَأَ عَلَى الْكَبِيرِ .
سنجیدگی اور مذاق میں ہر چھوٹے بڑے جھوٹ سے پرہیز کرو، اگر کوئی شخص کسی چھوٹے سے کام میں جھوٹ بولے تو وہ اسے بڑے جھوٹ کی جرأت دے گا۔ (وسائل الشيعة : 12 / 250 ، حديث رقم ( 16225 )

جھوٹ کیوں بولیں فروغِ مصلحت کے نام پر
زندگی پیاری سہی، لیکن ہمیں مرنا تو ہے
“ساحر لدھیانوی”

جھوٹ کے بعض نقصانات:
جھوٹے شخص کی بے اعتباری:
حضرت علی(ع) نے فرمایا: بہتر یہ ہے کہ مسلمان جھوٹے شخص کے ساتھ دوستی یا رفت و آمد کرنے سے اجتناب کرے، کیونکہ وہ اس قدر جھوٹ بولتا ہے کہ اس کی سچی بات کا بھی کوئی یقین نہیں کرتا. [کلینی، ج ۲، ص۳۴۱.]
جھوٹے شخص کا ایمان ختم ہو جاتا ہے:
امام باقر (ع) فرماتے ہیں: جھوٹ ایمان کے گھر کو ویران کر دیتا ہے [کافی، ج ۶، ص۳۳۹.]
عزت ختم ہونا:
رسول خدا (ص) نے فرمایا: سب سے کم عزت اس شخص کی ہے جو جھوٹ بولتا ہے. [مستدرک الوسائل، ج ۹، ص۸۷.]
فقر:
حضرت علی(ع) نے فرمایا: جھوٹ کی عادت، انسان کو فقیر بنا دیتی ہے. [قمی، ج ۷، ص۴۵۵.]
بھول جانا:
امام صادق (ع) فرماتے ہیں: وہ چیز جس کے ذریعے خداوند نے جھوٹے فرد کی مدد کی ہے، وہ بھول جانا ہے.[کلینی، ج ۲، ص۳۴۱.]
جہنم اور عذاب الہی:
پیغمبر خدا (ص) سے نقل ہوا ہے: ایاکم والکذب فانہ من الفجور و انھما فی النار[مستدرک الوسائل، ج ۹، ص۸۸]

جھوٹ سے پرہیز کریں کیونکہ جھوٹ فجور اور ستم کاری ہے اور جھوٹا اور فاجر کی جگہ آگ ہے. امیر المومنین علی (ع) نے فرمایا: ثمرہ الکذب المھانہ فی الدنیا والعذاب فی الآخرہ [غرر الحکم، ص۲۲۰] جھوٹ کا ثمرہ، دنیا کی پستی، اور آخرت کا عذاب ہے.

بعض فقہاء جیسے کہ شہید ثانی نے جھوٹ کو کلی طور پر گناہ کبیرہ کہا ہے لیکن روایات کی طرف رجوع کرنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ جھوٹ کے مراتب ہیں:
خدا، پیغمبر (ص) اور امام (ع) کی طرف جھوٹ کی نسبت دینا، جھوٹ کے بد ترین مرتبے ہیں. (جس طرح آج کل بہت زیادہ روایات بناکے بغیر تصدیق کیئے آئمہ و رسول کے نام سے پھیلائی جاتی ہے)
جھوٹی قسم، جھوٹی شہادت اور کتمان شہادت،
وہ جھوٹ جس سے نقصان ہو: مراتب کے لحاظ سے وہ جھوٹ جو گناہ کبیرہ ہے، ہر وہ جھوٹ جس میں نقصان ہو البتہ جتنا نقصان زیادہ ہو گا گناہ کا مرتبہ بھی اتنا ہی بڑا ہو گا اور اس کا عذاب اور نقصان بھی شدید ہو گا.
مذاق کی صورت میں جھوٹ بولنا. گناھانِ کبیرہ میں شمار ہے [دستغیب، ۲۸۵ ـ ۲۸۱]

“وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
“التماسِ دعا "
"روبی عابدی”

“جھوٹ” پر 2 تبصرے

Leave a reply to faizahashim جواب منسوخ کریں