“مومن اور مسلمان”
"مسلمان اللَّه کو مانتا ہے اور مومن اللَّه کی مانتا ہے”
اس خوبصورت تعریف نے اتنا جامع احاطه کیا ہے که
جیسے دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہو-
مومن اللَّه کے ہر حکم پر سرِ تسلیم خم کرتا ہے-
وه کوئی تاویل نہیں ڈھونڈتا که اللَّه نے یه کیوں کیا…
وه اللَّه کی ہر عطا پر صابر اور شاکر رہتا ہے-
مومن کے اوپر مصیبت آۓ تو بھی اللَّه کا شکر
اور خوشی ہو تو تب بھی اللَّه کا شکر-
مصیبتوں پر شکر اس لیے که وه کہتا ہے که اللَّه مجھے اس سے بڑی مصیبت میں بھی ڈال سکتا تھا-
اس کام میں بھی اللَّه کی کوئی بہتری ہی ہو گی-
وه اس بات کا نہ صرف زبان سے اقرار کرتا ہے
بلکه اس گواہی پر دل بھی مطمئن رہتا ہے
اور کوئی بھی شیطانی وسوسه اللَّه کے اس صابر بندے پر حمله نہیں کرتا که وه اللَّه سے گله کرے
که اے اللَّه یه کیوں کیا؟
بلکه وه اپنے جسم کے ایک ایک خلیے, بال اور روح تک کو اللَّه کی امانت سمجھتا ہے
اس لیے وه اسی سوچ کے ساتھ اللَّه کی رضا پر راضی رہتا ہے- اور خوشی میں اس انداز پر شکر بجا لاتا ہے که اس میں بھی اللَّه کی نافرمانی شامل نہ ہو-
وه دنیا کی رسومات اور لوگوں کی باتوں کی پرواه کیے بغیر اپنے خوشیوں کو اللَّه کی رضامندی کے لیے سادگی سے اپناتا ہے
“دنیا کافر کے لیے جنت اور مومن کے لیے قید خانه ہے-“
اور
“مومن کو اگر کانٹا بھی چبھے تو اللَّه اس کو مومن کے لیے اس کے گناہوں کا کفاره بنا دیتا ہے-“
ان جملوں میں دنیا کو مومن کے لیے قید خانه بتایا گیا ہے-
جیسے کسی جیل میں قیدی کی زندگی ہوتی ہے که جیلر کے ہر حکم کو ماننا ہوتا ہے چاہے اچھا لگے یا برا-
کھانا بھی جو پیش کیا جاۓ اسی پر صبر کرنا ہوتا ہے-
جیل میں محنت مشقت کی مصیبتیں بھی برداشت کرنا پڑتی ہیں- اور سب سے بڑھ کر اپنے پیاروں کا غم جو که دور ہوتے ہیں-
ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان، نئی آن
گفتار میں، کردار میں، ﷲ کی برہان!
مومن کے بہن بھائی ماں باپ یا اولاد جب اس دنیا سے چھوڑتے ہیں تو وه اللَّه کی اس رضا اور مرضی پر بھی صبر کرنے والا ہوتا ہے-
مومن کون ہے یہ بڑا آسان ہے معلوم کرنا ۔
مومن کبھی فرائض میں ڈنڈی نہیں مارتے ۔
حقوق العباد ادا کرتے ہیں ۔
حرام سے پرہیز کرتے ہیں ۔
وہ جھوٹ اور غیبت سے دور ہوتے ہیں کیونکہ
قرآن میں جھوٹ اور غیبت کو بھی حرام قرار دیا ہے ۔
اللَّه سے کسی قسم کا شکوه نہیں کرتے
بلکه ہر غم دکھ اور پریشانی پر یهی کہتا ہے که
الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
جو مصیبت پڑنے کے بعد یہ کہتے ہیں کہ ہم اللَّه ہی کے لئے ہیں اور اسی کی بارگاہ میں واپس جانے والے ہیں
یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن
قاری نظر آتا ہے، حقیقت میں ہے قرآن!
جو ان سب باتوں کی ضد ہوں وہ فقط مسلمان ہیں
اب ہم اندازہ لگا لیں ہم مومن ہیں یا مسلمان؟
"وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”

بہت گہری بات ہے سمجھنے والوں کے لیے ⚘
پسند کریںLiked by 2 people
مومن کو جاننے کے لیے مومن آنکھ چاہیے 💎☝️
پسند کریںLiked by 1 person