اخلاق

“اخلاق”

ہر شخص بنا لیتا ہے اخلاق کا معیار
اپنے لئے کچھ اور، زمانے کے لئے اور

ہم کو اھلبیت (ع) کے نقش قدم پر چلنا چاہئے!!

ایک شخص حضرت امام زین العابدین (ع) کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا:
میں ابھی ابھی فلاں آدمی کی محفل سے اٹھ کر آرہا ہوں اور وہ آپ کو اس طرح کہہ رہا ہے کہ
علی ابن الحسین (ع) گمراہ شخص اور بدعت گزار ہیں
(نعوذ باللَّه)
امام زین العابدین(ع)نے جواب میں فرمایا:
وہ باتیں جو خصوصی محفل میں کہی گئی ہیں،
امانت ہیں اور تم نے اس شخص کی محفل کے حقوق کی رعایت نہیں کی!
اور ہمارے حق کی بھی رعایت نہیں کی
کیونکہ (میرے بھائی) کی ایسی بات بتائی ہے کہ جس کی مجھے خبر نہیں تھی۔
(الاحتجاج طبرسی ج۲ ، ص۱۳۸)

پیٹھ پیچھے کسی کی برائی کرنا غیبت ہے
اور اس بات کو آگے پہچانا گرا ہوا اخلاق ہے

ہم لوگ تو اخلاق بھی رکھ آئے ہیں ساحلؔ
ردی کے اسی ڈھیر میں آداب پڑے تھے
( ساحلؔ)

"وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”

“اخلاق” پر 4 تبصرے

Leave a reply to dr Nayab جواب منسوخ کریں