کفارہ کیا ہوتا ہے؟

کفارہ کیا ہوتا ہے؟

کَفّارہ شریعت کی روی سے ایک قسم کی سزا ہے
جو بعض حرام کاموں کے ارتکاب یا واجبات کے ترک کرنے پر متعلقہ شخص پر لاگو ہوتا ہے۔
کفارہ کے مختلف اقسام ہیں ان میں سے بعض اقسام مال کی صورت میں ادا کی جاتی ہے جبکہ بعض اوقات کفارہ کے طور پر کسی عبادت کو انجام دینا ہوتا ہے۔
کفارہ کے بعض اقسام کچھ یوں ہے:
کسی غلام یا کنیز کو آزاد کرنا،
60 فقیروں کو کھانا کھلانا یا انہیں کپڑا پہنانا،
60 دن روزہ رکھنا(جس کے 31 روزوں کو بغیر کسی فاصلے کے رکھنا واجب ہے)
شریعت کی رو سے کسی گناہ کے مرتکب ہونے یا کسی واجب کے ترک کرنے پر متعلقہ شخص پر بعض احکام جاری ہوتے ہیں جن کے انجام دہی اس گناہ کے عذاب میں تخفیف یا اس کے محو ہونے کا باعث بنتا ہے۔ کچھ جگہ کفارہ کے بدلے "فدیہ” کا لفظ استعمال ہوتا ہے جس کی معنی کسی چیز کا دوسری چیز کے مقابلے میں قرار پانے کے ہیں۔

کفارہ میں ایک جہت سے متعلقہ شخص پر محرمات کے ارتکاب یا واجبات کے ترک پر سزا دینے کا پہلو ہے تو دوسری طرف سے اس میں معاشرے کیلئے کچھ منافع بھی ہے
جیسے کسی غلام یا کنیز کو آزاد کرنا،
فقیروں اور نیازمندوں کو کھانا کھلانا
یا انہیں کپڑا پہنانا وغیرہ
بعض اوقات کفارہ روزہ رکھنے یا حج کو دوبارہ انجام دینے کی صورت میں انجام پاتا ہے۔

کفاره واجب ہونے کے بعض اہم عوامل ہوتے ہیں ان میں کسی واجب روزے کو عمدا باطل کرنا بھی شامل ہے
بعض غیر حرام کاموں کی انجام دہی پر بھی شریعت میں فِدْیہ ادا کرنے کی تاکید کی گئی ہے یہ بھی کفارہ کی اقسام میں شمار ہوتا ہے۔
روزے کے کفارے کی قسمیں ہیں
رمضان کے روزے سے مربوط کفارے چار حصے میں تقسیم ہوتے ہیں
کفارے کی پہلی قسم: ماہ رمضان میں جان بوجھ کر افطار کرنے کا کفارہ

کفارے کی دوسری قسم: سالانہ فدیہ
اگر انسان بیماری کی وجہ سے ماہ رمضان کا روزہ نہ رکھے اور اس کی بیماری آئندہ ماہ رمضان تک طول پیدا کرلے اس طرح سے کہ سال کے تمام ایام میں روزہ نہ رکھ سکے تو ان روزوں کی قضا واجب نہیں ہے
لیکن آئندہ سال کے ماہ رمضان آنے کے بعد ہر دن کی قضا كے بدلے ایک مد (تقریباً 750گرام) طعام یعنی گیہوں، جو، نان یا اسی طرح کی چیز فقیر کو دینا لازم ہے کہ جسے سالانہ فدیہ بھی کہا جا تا ہے اور آئندہ سال کا ماہ رمضان آنے سے پہلے اس کا دینا صحیح نہیں ہے۔
البتہ جس شخص پر گذشتہ ماہ رمضان کے تیس دن کا کفارہ ہے تو ماہ شعبان کی پندرہ تاریخ کو پندرہ دن کا کفارہ دے سکتا ہے ، یا اسی طرح جس شخص پر دس دن کا کفارہ ہے ماہ شعبان کی پچیس تاریخ کو پانچ دن کا کفارہ دے سکتا ہے

کفارے کی تیسری قسم: کفارہٴ تاخیر
اگر انسان ماہ رمضان میں بغیر کسی عذر کے روزہ نہ رکھے اور آئندہ سال کے ماہ رمضان تک جان بوجھ کر روزے کی قضا بھی نہ بجا لائے تو لازم ہے کہ روزے کی قضا کرے اور احتیاط واجب کی بنا پر ہر دن کے لیے ایک مد طعام فقیر کو دے،
قابلِ ذکر ہےکہ کیونکہ جان بوجھ کر ماہ رمضان کے روزوں کو نہیں بجا لایا ہے لازم ہے کہ ان مقامات میں
عمدی افطار کا بھی کفارہ ادا کرے۔

کفارے کی چوتھی قسم: روزانہ کا فدیہ
اس گروہ جس پہ روزہ رکھنا واجب نہیں ہے اس کے بعض مقامات میں لازم ہےکہ کفارہ (روزانہ کا فدیہ) ادا کرے۔

لاعلمی کا مداوا علم ہے
مگر جہل کا کوئی کفارہ نہیں

اللَّه تعالیٰ ہم سب کی توفیقات میں اضافہ فرمائے۔
"آمین یا رب العالمین "

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
"روبی عابدی "

تبصرہ کریں