ماں کا دن

” ماں کا دن "

لاکھ گرد اپنے حفاظت کی لکیریں کھینچوں
اک بھی ان میں نہیں ماں کی دعاؤں جیسی

اس دنیا میں اگر سخت جان کرداروں کی فہرست بنائی جائے تو سرِ فہرست شاید ماں ہی ہوگی۔
جس نے ہم سب کو ہر سمت سے گھیر رکھا ہے۔
باپ کی منکوحہ ہے تو ہماری ماں ہے۔
بیوی ہے تو بچوں کی ماں ہے اور
بیٹی ہے تو مستقبل کی ماں ہے۔
تو پھر اس سارے جھرمٹ میں سوائے اپنی ماں کے ہمیں دوسروں کی مائیں کیوں نظر نہیں آتیں؟۔
ہم یہ نکتہ کیوں یاد نہیں رکھتے کہ جس طرح ہر بیج میں ایک درخت چھپا ہوتا ہے اسی طرح ماں دراصل ہر بچی کے ساتھ ہی جنم لے لیتی ہے۔
لہذا منطق کا تقاضا تو یہی ہے کہ جس درخت کی تعظیم کی جائے اس کے بیج کو بھی اتنی ہی عزت دی جائے۔
لیکن منطق کی یہاں سنتا کون ہے؟
ہم سب کو اپنی ماں بہت ہی پیاری ہے۔
اتنی پیاری کہ ہم اپنے وطن کی سر زمین کو مادرِ وطن کہتے ہیں اور اس کی خاطر مرمٹنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔
اپنی زبان کو مادری زبان کہتے ہیں اور ماں کے دودھ کی قسم کھا کر وعدہ کرتے ہیں اور اس پر قائم رہنے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔
لیکن۔۔۔
کوئی ماں کی عظمت کی مالا جپتے جپتے اسے کمبھ کے میلے میں لاوارث چھوڑ جاتا ہے۔
کوئی بیوگی کی سزا کے طور پر سفید ساڑھی پہنا، سرمنڈوا آشرم کے سپرد کرجاتا ہے۔
کوئی سب کچھ ہتھیانے کے لیے ماں کو پاگل خانے کے دروازے تک ہاتھ پکڑ کر لے جاتا ہے۔
تو کوئی اسے گھر میں رکھتا بھی ہے تو ایک کمرے تک محدود کردیتا ہے یا ایسانہیں بھی کرتا تو ماں کے پھیلے ہوئے ہاتھ پر چند روپے رکھ کر اپنے فرضِ مادری سے سبکدوش ہوجاتا ہے۔
ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہر شخص تو ایسا نہیں ہوتا۔
پانچوں انگلیاں برابر تو نہیں ہوتیں۔
ہر بھیڑ کالی تو نہیں ہوتی۔
لیکن اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیے گا کہ ہم میں سے کتنے لوگ ماں کو اس طرح سمجھتے ہیں جس طرح ماں ہمیں سمجھتی تھی، سمجھتی ہے اور سمجھتی رہے گی۔۔۔
وہ معاشرہ جہاں ماں کے قدموں تلے جنت اور جہاں باپ کی رضا میں رب کی رضا ہوا کرتی تھی آج وہی معاشرہ اس جنت اور اس رضائے ربانی سے دامن بچا تا نظر آتا ہے۔
اسلام میں تو ہر لمحہ اور ہر دن ماں کا دن اور باپ کا دن ہے۔

اس تصور کو مزید سمجھنے کے لیے والدین کی عزت، تکریم اور خدمت کے پس منظر میں قرآن پاک کی چندآیات اور چند احادیث پیش خدمت ہیں۔
پروردگارِ عالم نے قرآن کریم میں متعدد مقامات پر اپنی اطاعت وعبادت یا عدم شرک کے بعد فوراً والدین کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے کہ جو اس فعل کے افضل اور عظیم ہونے پر دلالت کرتا ہے ۔ لہذا ارشاد ہے
لَا تَعْبُدُونَ إِلَّا ٱللَّهَ وَبِٱلْوَٰلِدَيْنِ إِحْسَانًا
(البقرہ /83)
سوائے اللَّه کے کسی اور کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ نیکی کرو
وَٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا۟ بِهِۦ شَيْـًٔا ۖ وَبِٱلْوَٰلِدَيْنِ إِحْسَٰنًا
(النساء/36)
پروردگار عالم کی عبادت کرو اور اس کا کسی کو شریک قرار نہ دو ا ور والدین کے ساتھ نیکی کرو
أَلَّا تُشْرِكُوا۟ بِهِۦ شَيْـًٔا ۖ وَبِٱلْوَٰلِدَيْنِ إِحْسَٰنًا ۖ
(انعام/151)
اس کا کسی کو شریک قرار نہ دو ا ور والدین کے ساتھ نیکی کرو
وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوٓا۟ إِلَّآ إِيَّاهُ وَبِٱلْوَٰلِدَيْنِ إِحْسَٰنًا ۚ
(اسراء /23)
اور آپ کے پروردگار نے قطعی حکم دے دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ا ور والدین کے ساتھ نیکی کرو۔

اور کہیں پر والدین کی ساتھ نیکی کرنے کی وصیت فرمائی ہے جب کہ کلمہ وصیت عمدتا وہاں استعمال ہوتا ہے کہ جہاں وہ فعل واحب کرنا منظور ہو لہذا والدین کے ساتھ نیکی کرنا بھی واجب ہے ۔
وَوَصَّيْنَا ٱلْإِنسَٰنَ بِوَٰلِدَيْهِ إِحْسَٰنًا ۖ
(الاحقاف/15)
اور ہم نے انسان کو وصیت کردی کہ اپنے والدین کے ساتھ نیکی کرے۔

اسلام معاشرے کے عمر رسیدہ افراد کو کس قدر اہمیت دیتا ہے، اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک اور نرمی برتنے کی بہت زیادہ تاکید کرتا ہے۔
خصوصا ًبوڑھے والدین کے ساتھ نہایت شفقت کے ساتھ پیش آنے کا حکم دیتا ہے۔
قرآن میں ارشاد رب العزت ہے :
وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوٓا۟ إِلَّآ إِيَّاهُ وَبِٱلْوَٰلِدَيْنِ إِحْسَٰنًا ۚ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ ٱلْكِبَرَ أَحَدُهُمَآ أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَآ أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا O
وَٱخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ ٱلذُّلِّ مِنَ ٱلرَّحْمَةِ وَقُل رَّبِّ ٱرْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِى صَغِيرًا O
(سورہ اسراء/23-24)
اور آپ کے رب نے حکم فرما دیا ہے کہ تم اللَّه کے سوا کسی کی عبادت مت کرو اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کیا کرو، اگر تمہارے سامنے دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اف بھی نہ کہنا اور انہیں جھڑکنا بھی نہیں اور ان دونوں کے ساتھ بڑے ادب سے بات کیا کرو o
اور ان دونوں کے لیے نرم دلی سے عجز و اِنکساری کے بازو جھکائے رکھو اور (اللہ کے حضور) عرض کرتے رہو : اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے (رحمت و شفقت سے) پالا تھا o

قرآن کی آیات کے بعد متعدد احادیث میں حضور اکرم صلی اللَّه علیہ والہ وسلم نے بزرگوں کی عزت و تکریم کی تلقین فرمائی اور بزرگوں کا یہ حق قرار دیا کہ کم عمر اپنے سے بڑی عمر کے لوگوں کا احترام کریں اور ان کے مرتبے کا خیال رکھیں۔
آپ صلی اللَّه علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
لیس منا من لم یرحم صغیرنا ولم یقر کبیرنا.
وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے
“اقتباس “
"تحریر کچھ ردو بدل کے ساتھ "

ان تمام ماؤں کے لئے زندگی کی دعائیں جو ابھی حیات ہیں
اور ہمارے امی کے ساتھ ساتھ ان سب ماؤں کے لئے مغفرت کی دعائیں جو ہم میں موجود نہیں

عمر بھر تيری محبت ميری خدمت گر رہی
ميں تری خدمت کے قابل جب ہوئی تو چل بسی

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
"روبی عابدی”

“ماں کا دن” پر 1 تبصرے

Leave a reply to Rising Star جواب منسوخ کریں