توبہ

وہی رب ہے جو صبح نیند سے جگاتا ہے
اس انسان کو جو سارا دن اللَّه کی نا فرمانی کرتا ہے
,کبھی ناچ، کبھی گانا، کبھی سود، کبھی جھوٹ، کبھی حسد،
کبھی والدین سے بدتمیزی، کبھی کسی سے زبان درازی، کبھی کسی کی بے عزتی،

کبھی کچھ، کبھی کچھ

اور جب رات ہوتی ہے تو سلا دیتا ہے
اور ایسے سلاتا ہے
جیسے سارا دن ایک بھی نافرمانی نہ کی ہو
حالانکہ زمین پکار اٹھی،
پہاڑ رو پڑے،
یا اللَّه یہ کیا ہورہا ہے؟
توان کو پکارتا کیوں نہیں؟
تو ان کو مارتا کیوں نہیں؟
اجازت دے ہم ان کو مٹا دیں
مگر ہمارا پروردگار کہتا ہے خاموش رہو،
میں اس کی توبہ کا انتظار کر رہا ہوں
کبھی تو توبہ کرے گا

کیا ایسے رحیم پروردگار کی ہم پھر بھی نافرمانی کریں……؟؟؟؟؟؟؟؟

‎اَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْا اِلَی اﷲِ تَوْبَةً نَّصُوْحًا. (التحريم، /8)
‎اے ایمان والوں اللَّه سے خلوصِ دل سے توبہ کرو۔

کائنات میں کوئی اتنی شدت سے کسی کا انتظار نہیں کرتا
جتنا ہمارا پروردگار ہماری توبہ کا انتظار کرتا ہے

توبہ غسل کی طرح ہے جتنی بار کیا جائے روح میں نکھار آتا ہے

گناہ ایک تاریکی ہے اور توبہ اسکا چراغ ہے

گناہوں پہ پشیمانی ہی توبہ کا در ہے

گناہوں پہ ندامت گناہ کو مٹادیتی ہے

پروردگار رحیم و کریم ہے تو وہ قہار و جبار بھی ہے

موت کا کچھ نہیں پتہ جس وقت گناہ یاد آئیں توبہ کرنا چاہئے گناہ کا یاد آنا بھی اللَّه کی توفیق ہی ہے

ہماری دعا ہے کہ
پروردگار ہماری کوتاہیوں کو نظر انداز کر
ہماری توبہ کو قبول فرما

أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ
آمین یا رب العالمین

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
“روبی عابدی”

تبصرہ کریں