آسان فقہی اصطلاحات، حرف آ۔ا:-

آب جاری:
بہتا ہوا پانی جیسے چشمہ کا پانی جو زمین سے پھوٹ کر نکلے، نہروں کا پانی جو پہاڑوں کے اوپر سے جاری ہے، شہری نل (ٹنکی) کا پانی۔

آب کُر:
احتیاط واجب کی بناء پر کُر پانی اس مقدار کو کہتے ہیں جس کی مجموعی مقدار 384 کیلوگرام ہو۔

آب قلیل:
اس پانی کو کہتے ہیں جو کُر سے کم ہو اور زمین سے پھوٹ کر بھی نہ نکل رہا ہو۔

آب مضاف:
وہ ہے جسے تنہا پانی نہ کہہ سکیں (بلکہ اسے کسی دوسری چیزکی طرف نسبت دیکر پانی کہیں) جیسے پھولوں کا عرق، نمک کاپانی وغیرہ۔

آب مطلق:
وہ پانی ہے جسے عرف عام میں پانی کہتے ہیں،اور اس کو کسی دوسری چیز کی طرف نسبت نہیں دیتے مثلا اس کو نمک کا پانی یا پھلوں کا پانی نہ کہا جائے اور اس کو خالص پانی بھی کہاجاتا ہے ۔

آلات لَہو:
عیاشی کے ساتھ وقت گزارنے کے نامشروع وسائل جیسے تارساز،بانسری وغیرہ۔

ابنُ السَّبیل:
وہ مسافر جس کے پاس سفر میں پیسہ ختم ہوگئے ہوں۔

اَتقی:
جو بہت زیادہ متقی اور پرہیزگار ہو۔

اجاره:
وہ معاہدہ جس کے تحت کسی چیز کی منفعت یا کسی شخص کی محنت، معینہ اجرت پر کسی دوسرے کے حوالہ کی جائے۔

اُجرَتُ المِثل:
کسی کام کی عرفی اجرت، مثلا کوئی شخص کسی کام کو اس کی اجرت معین کئے بغیر انجام دے ، تو اس کی اجرت اس جگہ کے عرف عام کے مطابق دینا ہوگی۔

اَجزاء و شرایط:
ہر وہ چیز جس کے نہ ہونے کی وجہ سے خود اصل چیز باقی نہ رہ جائے اسے جزء کہتے ہیں اور ہر وہ چیز جس کے نہ ہونے کی وجہ سے کسی چیز کی کوئی صفت یا مخصوص حالت بدل جائے اس کو شرط کہتے ہیں جیسے رکوع اور سجود نماز کا جزء ہے لیکن وضو نماز کے لئے شرط ہے ۔

اجیر:
جو شخص ایک معینہ معاہدہ کے تحت کسی کام کو انجام دینے کی اجرت اور مزدوری لے۔

اِحتلام:
بلوغ کی نشانیوں میں سے ایک ہے اور جس کے معنی نیند کی حالت میں منی نکلنے کے ہیں۔

احتیاط:
تمام اطراف و جوانب کی رعایت کرتے ہوئے عمل انجام دینا جس سے انسان کو اطمینان حاصل ہوجائے ۔

احتیاط لازم:
(رعایت جوانب نمودن در این صورت موجب اطمینان انسان به رسیدن به واقع می‌شود.)

واجب،اگرمجتہد کسی امر کے واجب ولازم ہونے کا استفادہ آیات اورروایات سے اس طرح کرے کہ اس کا شارع کی طرف منسوب کرناممکن ہوتواس کی تعبیر لفظ ’’واجب‘‘کے ذریعے کی جاتی ہے اوراگر اس کے واجب ولازم ہونے کوکسی اور ذریعے مثلاً عقلی دلائل سے سمجھاہواس طرح کہ اس کاشارع کی طرف منسوب کرنا ممکن نہ ہوتو اس کی تعبیر لفظ ’’لازم‘‘ سے کی جاتی ہے۔ احتیاط واجب اور احتیاط لازم میں بھی اسی فرق کو پیش نظر رکھناچاہئے۔بہرحال مقلدکے لئے مقام عمل میں ’’واجب‘‘ اور ’’لازم‘‘ کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔

احتیاط مستحب:
احتیاط مستحب یہ ہے کہ احتیاط سے پہلے یا اس کے بعد مجتہد نے اس کے متعلق کوئی فتوی صادر کیا ہو۔

احتیاط واجب:
احتیاط واجب یہ ہے کہ احتیاط سے پہلے یا بعد میں مجتہد نے اس کے متعلق کوئی فتوی نہ دیا ہو۔ ایسے مسائل میں مقلد کسی دوسرے مجتہد کی تقلید کرسکتا ہے ۔

احتیاط کو ترک نہیں کرنا چاہئے:
اگر اس مورد میں مجتہد کی طرف سے کوئی فتوی صادر نہیں ہوا ہے تو اس سے احتیاط واجب کی طرف اشارہ ہے۔ لیکن اسی مورد میں اگر فتوا صادر ہو گیا ہے تو حسن احتیاط کی طرف اشارہ ہے۔

اَحوط:
جو کام احتیاط کے مطابق ہو۔

احیائے زمین:
کھیتی کر کے یا باغ یا مکان وغیرہ کی تعمیر کرکے بے کار زمین کو کار آمد بنانا۔

اخفات:
آہستہ اور بغیر آواز کے (حمد و سورہ کو) پڑھنا۔

اداء عبادت:
نماز کو اس کے مقررہ شرعی وقت میں انجام دینا، مثلا جس نے صبح کی نماز کو طلوع فجر اور طلوع آفتاب کے درمیان انجام پڑھی ہو اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے نماز صبح اداء کی ہے۔

اَرباح مَکاسِب:
کام کا منافع، کام کرنے کے ذریعہ ہر طرح کی آمدنی کو ارباح مکاسب کہتے ہیں۔

ارتداد:
ارتداد کے معنی مسلمان ہونے کے بعد کفر اختیار کرنے کے ہیں۔

اِرتماس:
غسل کے لئے پانی میں غوطہ لگانا۔ وضو کیلئے ہاتھ اور چہرہ کو پانی میں ڈبونا۔

ارث:
میراث، مرنے والے کا ترکہ جو وارثوں کیلئے باقی رہ جاتاہے۔

اِستبراء:
گندگی سے پاک ہونے کی کوشش کرنا۔ اس لفط کا استعمال تین مقامات پر ہوتا ہے:

  1. پیشاب سے استبراء: (اس کا طریقہ توضیح المسائل کے مسئلہ نمبر ٧٨میں بیان کیا گیا ہے) ۔
  2. منی سے استبراء : یعنی منی خارج ہونے کے بعد پیشاب کرنا تاکہ نالی میں پیشاب کی نالی میں منی کے ذرات نہ رہ جانے کا اطمینان حاصل ہوجائے۔
  3. نجاست خوار حیوان کا استبراء : یعنی ایسے جانور کو اتنے دن تک انسان کی نجاست کھانے سے روکے رکھنا کہ وہ اپنی اصل خوراک کھانے کا عادی ہوجائے ۔ اس کا طریقہ توضیح المسائل کے مسئلہ نمبر ٢٣٩ میں بیان کیا گیا ہے ۔

استحاضہ:
حیض، نفاس، زخم اور پھوڑے پھونسی کے خون کے علاوہ جو خون عورتوں کے رحم سے خارج ہوتا ہے اس کو خون استحاضہ کہتے ہیں اس کی تین قسمیں ہیں استحاضہ قلیلہ، استحاضہ متوسطہ، استحاضہ کثیرہ۔

اِستحالہ:
ایک چیز کا اس طرح تبدیل ہوجانا کہ اس کی حقیقت باقی نہ رہے جیسے نجس لکڑی جل کر راکھ بن جائے ، یا وہ کتا جو نمک زار میں جا کر نمک میں تبدیل ہوجائے۔

اِستفتاء:
فتوی معلوم کرنا، کسی شرعی مسئلہ کے سلسلہ میں مجتہد کا نظریہ معلوم کرنا۔

اِستطاعت:
جسمانی صحت، مال اور راستہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے حج کے قابل ہونا۔

استمتاع:
عورتوں سے جماع کے علاوہ دوسری جنسی لذات اٹھانا۔

استمناء:
اپنے ساتھ ایسا کوئی عمل انجام دینا جس کی وجہ سے منی نکل آئے۔

اشکال ہے:
احتیاط واجب کے معنی میں ہے جس کے معنی گذر گئے ہیں۔

اضطرار:
مجبوری۔

اظہر:
زیادہ ظاہر،فتوی ہے اور مقلد کو اسی کے مطابق عمل کرنا چاہئے۔

اعدل:
سب سے زیادہ عادل شخص۔

وطن سے اعراض:
انسان کا اپنے وطن کو چھوڑنے کا ارادہ کرنا اور دوسری جگہ مقیم ہوجانا۔

اعراض عملی:
جب بھی انسان اپنے پہلے وطن میں واپس آکر ہمیشہ رہنے کا قصد کرے لیکن عملی طور پر ایک مدت گذر جائے (مثلا پانچ سال یا زیادہ)اور ابھی تک واپس نہ آئے تو اب اس کو عملی اعراض حاصل ہوگیا اوراس کی نماز وروزہ وہاں پر قصر ہے۔

اعلم:
سب سے زیادہ علم رکھنے والا۔

افضاء:
افضاء کے لغوی معنی کھلنے کے ہیں، اوراصطلاح میں پیشاب اور حیض کے مقام کا ایک ہوجانا ۔ یا حیض اور پاخانہ کے مقام کا ایک ہوجانا یا تینوں مقامات کا ایک ہوجانا۔

افطار:
روزہ کھولنا یا روزہ توڑنا۔

اقامہ معروف:
واجب یا مستحب کام انجام دینا ۔

اقرب یہ ہے:
فتوی یہ ہے (سوائے اس صورت کے عبارت میں کوئی ایسا قرینہ موجود ہو جو فتوی نہ ہونے کو بتائے) ۔

اقوی یہ ہے:
قوی نظریہ یہ ہے، صریح فتوی یہ ہے اور اسی کے مطابق عمل کرنا چاہئے ۔

ضرورت کودور کرنے پر اکتفاء کرنا:
مجبوری کے مطابق اکتفاء کرنا اور اس سے زیادہ انجام نہ دینا ۔

الزام کرنا:
مجبور کرنا ۔

امام:
رہبراور معصوم راہنما ۔

امام جماعت:
نماز میں جس کی اقتداء کرتے ہیں اسے امام جماعت کہتے ہیں ۔

امرار معاش:
زندگی بسر کرنا ۔

امر بالمعروف:
قوانین شریعت اوراحکام دین پر عمل کرنے کے لئے دوسروں کو مجبور کرنا اور انہیں عمل کی دعوت دینا ۔

امساک:
منع کرنا، اپنے آپ کو کوئی کام انجام دینے سے روکنا ۔ جو چیز روزہ کو ضرر پہنچاتی ہیں ان سے پرہیز کرنا ۔

اموال محترمہ:
اسلامی قوانین کی بنیاد پر جن اموال کا احترام کیا جاتا ہے ۔

انتقال:
منتقل کرنا، نجس چیز کا اپنی جگہ سے اس طرح منتقل ہونا کہ پھر اس کو پہلے والی چیز نہ کہا جاسکے جیسے انسان کے خون کا مچھر کے جسم میں منتقل ہونا ۔

انزال:
منی کا نکالنا ۔

اوداج اربعہ:
جانوروں کی چاروں رگیں ۔

اورع:
جو بہت زیادہ متقی و پرہیزگار ہو ۔

اولی:
بہتر ، زیادہ مناسب

ایقاع:
وہ معاملہ جو ایک طرف سے واقع ہوجاتا ہے اور اسے قبول کرنے والے کی ضرورت نہیں ہوتی جیسے طلاق میں صرف طلاق دینا کافی ہوتا ہے قبول کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

اہل کتاب:
وہ غیر مسلم جو خود کو کسی صاحب کتاب پیغمبر کا تابع سمجھتا ہو جیسے یہودی، عیسائی۔
اقتباس

(نوٹ: یہ تمام اصطلاحات فقہی کتب میں موجود ہیں، کچھ احباب کی فرمائش پہ آج سے یہ سلسلہ شروع کیا ہے)

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
“روبی عابدی”

تبصرہ کریں