الفاتحہ
23 ذی الحجہ
ہماری امی (وسیم بانو بنت سید امتیاز حسین عابدی)
کے لئے سورہ فاتحہ کی درخواست
Love you Ammi & miss you ❤️❤️
یہ سچ ہے کہ اس دنیا میں ماں سے زیادہ پیار کرنے والا اور مخلص رشتہ کوئی نہیں ۔ مگر یہ بھی سچ ہے کہ ہماری زندگی میں وہ ہم سے جدا ہوجاتی ہیں
وہ کلی جو شاخ سے اِک بار ہوجائے جُدا،
باغباں گر جان بھی دے دے تو پھر کِھلتی نہیں،
آدمی چاہے تو تارا دَر پہ لے آئے مگر،
ماں اگر اِک بار چُھٹ جائے تو پھر ملتی نہیں
😢
ماں مرتی نہیں وہ کسی نا کسی شکل میں کہیں نہ کہیں ضرور ملتی ہے
آئینہ دیکھ کر خوش ہیں میری آنکھیں بے حد
میرے چہرے میں میری ماں کی جھلک ملتی ہے
3 جنوری 2008/ 23 ذی الحجہ کا دن ہم سب پہ دوسری قیامت جب امی ہم سب کو چھوڑ کے اپنے خالقِ حقیقی کی طرف روانہ ہوئیں پہلی قیامت 21 اکتوبر 2001 / 3شعبان کو جب ابو ہم سے جدا ہوئے
امی کی تدفین شبِ عید مباہلہ، شبِ جمعہ ہوئی
ایک وقت تھا کہ ہمارا گھر خاموشی سے اکثر ناآشنا ہی رہتا.
ابو کی نصیحتوں کے ساتھ ساتھ مزاح کے چٹکلے امی کی کھٹی میٹھی باتوں کے ساتھ ساتھ نصیحتیں، بہنوں اور بھائی کے شور شرابے، ہنسی مذاق، کلکاریوں، گپ شپ اور پیار بھرے لڑائی جھگڑے کی آوازوں سے پورا گھر مہکتا رہتا تھا.
صبح کا وقت ہوتا تو سب کو اپنی اپنی پڑی ہوتی
بستر میں لیٹے ہوئے ابو کی آواز کانوں میں پڑتی: "جلدی جلدی اٹھو نماز کا وقت نکل رہا ہے. نماز پڑھو
امی کہہ رہی ہوتیں: "آ کر ناشتہ کر لو. سکول سے دیر ہو رہی ہے.”
اب اگر کچھ باقی رہ گیا تو وہ ہر ایک کی اپنی اپنی خوشبو اور مہک ہے آج ہم ان میں سے ایک ایک کی خوشبو محسوس کرکے اپنے خالی دل کو بھرنے کی اور اپنے آنسو روکنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں
مہینوں بعد ہم سب بہن بھائی کہیں اکٹھے ہو پاتے ہیں. کچھ دن اکٹھا گزارتے ہیں، گپ شپ کرتے ہیں اور پھر سب اپنے اپنے گھروں کو چل پڑتے ہیں. پھر ہر طرف وہی خاموشی چھا جاتی ہے.
بعض دفعہ ہم سوچتے ہیں کہ کاش ہم بڑے ہی نہ ہوتے. کاش وہ بچپن پھر سے لوٹ آتا.
لیکن پھر ہم اللَّه کا شکر ادا کرتے ہیں کہ جس نے یہ قیمتی لمحات بھی عنایت کیے اور سب کی خوشیوں کی دعائیں کرتے ہیں
اگر آپ ابھی چھوٹے ہیں اور آپ کو یہ لمحات میسر ہیں تو خدارا اس کو خوب انجوائے کریں.
ہر طرف محبت اور پیار کے پھول بکھیریں.
اپنے والدین سے دل کھول کر پیار کریں.
اپنے دادا سے خوب گپ شپ کیجیے.
دادی سے کہانیاں اور خاندان کی داستانیں سنیں.
نانا سے خوب دعائیں لیں.
معصوم شرارتیں کرکے نانی سے لازمی اپنے کان کھنچوائیں.
اپنے بہن بھائیوں کی زندگیوں میں خوشی کا ہر رنگ بکھیرنا مت بھولیں.
المختصر یہ کہ اپنے دل کا کوئی ارمان، ارمان مت رہنے دیں اور اس وقت کو پَر لگا کر اڑتے وقت کو حسین بنائیں.
اگر آپ گھر کے بڑے یا بڑی ہیں تو تب بھی اپنے بچوں کے ساتھ خوب انجوائے کریں۔
ان کے ساتھ کھیلیں.
ان کو خوب لاڈ پیار دیں.
ان کی اچھی تربیت کیجیے.
اگر گھر گندا ہوتا ہے تو ہونے دیں.
کمروں میں سامان بکھرتا ہے تو بکھرنے دیں.
دروازے کھلے رہتے ہیں تو رہنے دیں.
بچے شور شرابہ کرتے ہیں تو کرنے دیں.
یہ سب بعد میں بھی ٹھیک اور درست ہو سکتا ہے.
لیکن
سب کا ایک دوسرے کے ساتھ بیتا ہوا یہ وقت کبھی لوٹ کر نہیں آئے گا.
بس یادیں، اپنی اپنی خوشبوئیں اور آنسو بھری مسکراہٹیں رہ جائیں گی.
لہذا اس وقت کو ہر ممکن طریقے سے حسین سے حسین تر بنانے کی کوشش میں لگے رہیں اور اپنے ہر رشتے کی قدر کریں.
موبائل، لیپ ٹاپ، ٹی وی اور سوشل میڈیا وغیرہ میں مگن ہو کر اپنے والدین، بہن بھائیوں اور بیوی بچوں یا شوہر وغیرہ کا حق ہرگز نہ ماریں.
کیونکہ خدا جانے کہ کچھ ہی برس بعد کون کہاں اور کس حال میں ہو گا.
اگر آج احساس نہ کیا تو بعد میں صرف پچھتاوے اور حسرتیں باقی رہ جائیں گی اور چیخ چیخ کر ایک ایک لمحے اور رشتے کو پکاریں گے
لیکن کوئی لوٹ نہیں آئے گا.
سارے رشتے محترم ہوتے ہیں، لیکن ماں سے کم
ماں سے بڑھ کر کون ہوتا ہے شریکِ رنج و غم؟
(اعتبار ساجد)
پروردگار ہم سب کو ان لمحات کو یادگار بنانے میں مدد کرے
"آمین یا رب العالمین "
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
” روبی عابدی”

اللہ آپ کے والدین کی مغفرت کرے اور آپ لوگوں کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین ۔
پسند کریںLiked by 1 person