بیٹھ کے نماز پڑھنا (دوسری پوسٹ)

“گذشتہ سے پیوستہ“

آسان ہے حساب نمازیں اگر درست
‎ سولی وہاں گڑی ہے اگر رہ گئی نماز
(عرشی)

بیٹھ کے نماز پڑھنا (دوسری پوسٹ)

اگر نماز گزار نماز کے دوران کھڑے ہونے سے ناتواں ہو جائیں اگر آخر وقت تک اپنی ناتوانی کے برطرف ہونے سے نا امید ہو تو بیٹھ جائیں اور بیٹھ کر نماز کو جاری رکھیں اور اگر نماز میں بیٹھنے سے بھی ناتواں ہو جائیں تو لیٹ جائیں اور جو بیٹھ کر نماز نہیں پڑھ سکتے ضروری ہے کہ نماز کی حالت میں پہلو کے بل اس طرح لیٹے کہ ان کے بدن کے سامنے کا حصہ قبلہ رخ ہو اور جب تک دائیں پہلو کے بل لیٹنا ممکن ہے احتیاط لازم کی بنا پر بائیں پہلو کے بل نہ لیٹے اور اگر یہ دونوں صورتیں ممکن نہ ہوں تو پیٹھ کے بل اس طرح لیٹیں کہ ان کے پیر کے تلوے قبلہ کی طرف ہوں۔
اور اوپر بیان کئے ہوئے فتوے کے مطابق قبلہ کی جہت کی رعایت کرتے ہوئے نماز کو بجالائیں لیکن جب تک ان کا بدن مكمل طور پر ٹھہر نہ جائے واجب ذکر کچھ بھی نہ پڑھیں
اور حرکت کی حالت میں مستحبی ذکر پڑھنے کا حکم ہے
اگر نماز کے مستحب اذکار نماز میں جو کچھ وارد ہوا ہے اس قصد سے پڑھیں تو احتیاط لازم کی بنا پر بدن حرکت نہ کرے اور اگر بدن کے حرکت کرنے کی حالت میں مستحب ذکر پڑھیں مثلاً رکوع یا سجدے میں جاتے وقت تکبیر کہیں تو اس ذکر کی نیت سے جو نماز میں دستور دیا گیا ہے پڑھیں تو وہ ذکر صحیح نہیں ہے لیکن خود نماز صحیح ہے اور بدن کا حرکت کرنا نماز کے باطل ہونے کا سبب نہیں بنے گا، البتہ (بِحَوْلِ اللهِ وَقُوَّتِهِ اَقُوْمُ وَاَقْعُدُ) کو کھڑے ہوتے وقت کہیں گے۔

لیکن اگر کسی کو معلوم ہے یا اطمینان رکھتے ہوں کہ اس کی ناتوانی آخر وقت تک باقی نہیں رہے گی اور وقت ختم ہونے سے پہلے نماز کو مثلاً کھڑے ہو کر پڑھ سکتے ہیں تو اس صورت میں نماز کو توڑ دیں اور بعد میں توانائی کی حالت میں کھڑے ہو کر نماز پڑھیں۔

اور اسی طرح اگر نا امید نہ ہوں اور معقول احتمال دے رہے ہوں کہ اس کی ناتوانی آخر وقت تک بر طرف ہو جائے گی تو رجا کی نیت سے بیان شدہ کیفیت کے مطابق نماز کو تمام کر سکتے ہیں، چنانچہ اس کا عذر آخر وقت تک باقی رہ گیا تو جو نماز پڑھی ہے کافی ہے اور اگر عذر بر طرف ہو گیا تو اسے دوبارہ پڑھیں گے۔

جو اپنے وظیفے کے مطابق بیٹھ کر نماز پڑھ رہے ہوں اگر حمد و سورہ پڑھنے کے بعد کھڑے ہو سکتے ہوں اور رکوع کھڑے ہو کر بجالاسکتے ہوں تو کھڑے ہو جائیں اور کھڑے ہونے کی حالت سے رکوع میں جائیں اور اگر ایسا نہ کر سکتے ہوں تو رکوع بھی بیٹھ کر بجالائیں۔

جو اپنے وظیفے کے مطابق بیٹھ کر نماز پڑھ رہے ہوں اگر نماز کے دوران کھڑے ہو سکتے ہوں تو جتنی مقدار کھڑا ہو سکتے ہیں کھڑے ہو کر نماز پڑھیں لیکن جب تک ان کا بدن مكمل طور پر ٹھہر نہ جائے واجب ذکر میں سے کچھ نہ پڑھیں لیکن اگر جانتے ہوں کہ مختصر کھڑے ہو سکتے ہیں تو اس کو قیام متصل بہ رکوع سے مخصوص کریں۔

جو اپنے وظیفے کے مطابق لیٹ کر نماز پڑھ رہے ہوں اگر نماز کے دوران بیٹھ سکتے ہوں تو جتنی مقدار بیٹھ سکتے ہیں بیٹھ کر نماز پڑھیں اور اگر کھڑے بھی ہو سکتے ہوں تو جس مقدار میں ممکن ہے کھڑے ہوں، لیکن جب تک مکمل طور پر ان کا بدن ٹھہر نہ جائے واجب ذکر بالکل نہ پڑھیں لیکن اگر جانتے ہوں کہ مختصر مقدار میں کھڑے ہو سکتے ہیں تو اسے قیام متصل بہ رکوع سے مخصوص کرے۔

باقی آئندہ
(اگلی پوسٹ میں ان شاء اللّٰہ بیٹھ کے نماز پڑھنے کے مزید طریقہ)

(اگر کچھ سمجھ میں نہیں آیا ہے تو پوچھ لیا جائے کیونکہ غلطی کرنے سے بہتر ہے سوال کرنا )

"وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”

تبصرہ کریں