“وسیلہ اور استعانت”

وسیلہ اختیار کرنا کوئی ضروری نہیں ہے،
نہ ہی اللّٰہ تعالیٰ اس کا محتاج ہے،
ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ وسیلہ کے ذریعہ دعا جلد قبول ہوتی ہے،

وسیلہ کا معنی استعانت ( طلبِ معاونت، مدد مانگنا)کے نہیں ہیں۔
اللّٰہ کے علاوہ کسی سے استعانت جائز نہیں،
استعانت اور چیز ہے اور وسیلہ اور چیز ہے،
جو لوگ وسیلہ کو استعانت کے معنی میں لیتے ہیں
وہ وسیلہ کو ناجائز کہتے ہیں،
حالانکہ وسیلہ کے یہ معنی نہیں ہیں

پروردگار قرآن مجید میں کہہ رہا ہے کہ
يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَ ابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسيلَةَ وَ جاهِدُوا في‏ سَبيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُون ‘‘ (مائدہ/35)
ایمان والو اللّٰہ سے ڈرو اور اس تک پہنچنے کا وسیلہ تلاش کرو اور اسکی راہ میں جہاد کرو کہ شاید اس طرح کامیاب ہوجاؤ۔

پیغمبر اکرم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم اور ائمہ معصومین علیہم السلام کی احادیث میں بھی دعا کے وقت اولیاء خدا سے توسل کی تاکید کی گئی ہے۔
جیسا کہ حدیث نبوی میں جو اہل تشیع اور اہل سنت کے نزدیک معتبر ہے ذکر ہوا ہے۔
’’كُلُ‏ دُعَاءٍ مَحْجُوبٌ‏ حَتَّى يُصَلَّى عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّد‘‘
ہر دعا محجوب ہے (یعنی قبول نہیں ہوگی) مگر یہ کہ محمد و آل محمد پر صلواة بھیجی جائے۔
[بحار الانوار، ج27، ص260، محمد باقر بن محمد تقى بن مقصود على مجلسى، معروف به علامه مجلسى و مجلسى ثانى،انتشارات مؤسسة الوفاء بيروت – لبنان‏، 1404 قمرى ، چاپ دوم‏۔]

نجات کے لئے ہوگا بس اب وسیلہ یہی
جو لفظ آلِ محمد زبان تک پہنچا
“روبی”

"وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”

تبصرہ کریں