قَالَ رَبِّ اشۡرَحۡ لِیۡ صَدۡرِیۡ ﴿ۙ۲۵﴾ وَ یَسِّرۡ لِیۡۤ اَمۡرِیۡ ﴿ۙ۲۶﴾
وَ احۡلُلۡ عُقۡدَۃً مِّنۡ لِّسَانِیۡ ﴿ۙ۲۷﴾ یَفۡقَہُوۡا قَوۡلِیۡ ﴿۪۲۸﴾
(سورہ طہ)
اے میرے رب ؛میرے سینہ کو کشادہ کردے اور میرے کام کو آسان کردے، اور میری زبان کی گرہوں کوکھول دے تاکہ وہ میری بات کو سمجھ سکیں۔،،
🤲🤲
رسول اللّٰہ صلى اللّٰہ عليه و آله وسلم :
الصَّلاةُ عِمادُ الدِّينِ .
نماز ، ستون دين ہے
[كنز العمّال : 18889 .]
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے
إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ الصَّلَاةُ فَإِنْ قُبِلَتْ قُبِلَ مَا سِوَاهَا
”سب سے پہلے (روز قیامت) بندوں سے نماز کے بارے میں سوال ہوگا اگر نماز قبول ہے تو دوسرے اعمال بھی قبول ہیں“۔
[اصول کافی / الکلینی 3:268/4،التہذیب / شیخ طوسی ۺ 2:239/946۔ وسائل ج 4 ص 108]
نماز خالق ومخلوق کے درمیان ایک معین و ثابت ملاقاتوں کی جگہ ہے اللّٰہ تعالی نے اس کے اوقات، اس کے طریقہ، اس کی سورتوں، اس کی کیفیات کو اپنے بندوں کیلئے مقرر کیاہے
ہم نمازکے دوران اس کے سامنے اپنی عقل و قلب اور اعضاء و جوارح کواس کی طرف متوجہ کرتے ہوئے کھڑے ہوجائیں اس سے بات اور مناجات کریں پس ہم پر لازم ہے کہ مناجات کے دوران صفائے قلب و ذہن کے ساتھ اشک ریزی کریں(آنسوبہائیں) اور شفاف روح کے ساتھ اس کی تسبیح کریں۔
اس طرح کہ جیسے اس کے سامنے کھڑے ہوں اور اسی کے ساتھ اس کی ملاقات اور اس کے وصال کی لذت و سعادت کی نعمت سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور یہ فطری بات ہے کہ اس کی محبت ہم پر خوف کے ساتھ طاری ہوگی
کیونکہ ہم اپنے ایسے خالق کے سامنے کھڑے ہوں گے کہ جوعظیم اور ہم پر رحیم ہے اور ہمارے حال پر مہربان ہے‘ اور سمیع وبصیر ہے۔
ہمارے مولا حضرت امیرالمومنین علیہ السلام اپنے رب کی عبادت میں پوری طرح مستغرق رہتے اور ہر وقت اس کی طرف اس طرح متوجہ رہتے کہ جنگ صفین میں آپ کے جسم سے تیر نکالا گیا تو اس کا درد و الم آپ کو اپنے رب کی مناجات سے نہ روک سکا۔
امام حضرت زین العابدین علیہ السلام جب وضو کرتے تو آپ کا رنگ زرد پڑجاتا آپ کے گھروالوں میں سے کسی نے پوچھا آپ کا وضو کے وقت یہ کیا حال ہوجاتا ہے؟
تو آپ نے جواب میں فرمایا:
کیا تم نہیں جانتے کہ میں کس کے سامنے کھڑے ہونے جارہا ہوں
اور جب آپ نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو آپ کے جسم میں لرزہ پڑجاتا کسی نے اس بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا :
”میں اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونا چاہتاہوں اور اس سے مناجات کرنا چاہتا ہوں تو میرے جسم میں لرزہ پڑجاتاہے “۔
اور جب ہمارے امام حضرت موسیٰ کاظم علیہ السلام گوشہ تنہائی میں نماز کے لئے کھڑے ہوتے تھے تو روتے اور آپ کے جسم کے اعضاء میں اضطراب پیدا ہوجاتا اور آپ کے قلب (مبارک) میں خوف خدا سے حزن و اندوہ پیدا ہو جاتا تھا۔
اور جب آپ کو ہارون رشید کے تاریک اور وحشتناک قید خانہ میں لے جایا گیا تو وہاں آپ خدا کی اطاعت و عبادت میں مشغول ہوگئے اور اس بہترین وپسندیدہ فرصت کے مہیا ہونے پر اپنے پروردگار کا شکر بجالائے اور اپنے پروردگارکومخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں
”میں نے تجھ سے عرض کیا تھا کہ مجھے اپنی عبادت کا موقعہ عنایت فرما تو نے میری اس دعا کو قبول کیا لہٰذا میں تیری اس چیز پر حمد و ثنا بجا لاتا ہوں۔ “
نماز نفس کی اندرونی خواہش وکیفیت کی ظاہری حالت اور ایسے خدا سے لگاؤ اور ربط کا نام ہے جو کائنات کا خالق ‘غالب‘ مالک اور سب کا نگہبان ہے۔
جس وقت ہم اپنی نماز کو شروع کرتے ہوئے (اللّٰہ اکبر ) کہتے ہیں تو مادیات اور اس کی راہ و روش اور اس کی زیب و زینت تمام کی تمام ہمارے نفس میں سے دور ہوجاتی ہے اور ہم اکثر مضمحل ہوجاتے ہیں کیونکہ ہم اس کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں کہ جو خالق کائنات اور اس پر غالب ہے جس نے اس دنیا کو اپنی مشئیت کے مطابق مسخر کیا ہے پس وہ ہر چیز سے بڑا عظیم ہے اور ہر چیز اس کے قبضہ میں ہے
اور جس وقت ہم سورة الحمد کی قرائت کرتے ہیں
إیاكَ نَعْبُدُ وَإیاكَ نَسْتَعینُ
تو ہم اپنے نفس اور جسم کو اللّٰہ قادر و حکیم کی استعانت کے علاوہ کسی دوسری استعانت کے اثر سے پاک وصاف کرلیتے ہیں۔(یعنی صرف اللّٰہ سے استعانت چاہتے ہیں کسی اور سے نہیں )اور یہ خشوع کی پسندیدہ عادت ہر روز پانچ مرتبہ حتمی ہوجاتی ہے
صبح فجر، ظہر، عصر، مغرب،اور عشاء اور اگر ہم چاہیں تو اس میں مستحب نمازوں کا اضافہ کر سکتے ہیں
(اقتباس: آسان مسائل: آیت اللّٰہ سیستانی)
چھوٹی خطا نہ جان ُتو ترکِ نماز کو
سب سے یہی بڑی ہے اگر رہ گئی نماز
“عرشی”
"وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”
