”غصہ کو کنٹرول کرنا یا اظہار کرنا “

غصہ کو کنٹرول کرنا یا اظہار کرنا؟

اللہ تعالی ٰ نے انسان کو احساسات اور جذبات دے کر پیدا کیا ہے ۔یہ جذبات ہی ہیں جن کا اظہار ہمارے رویوں سے ہوتا ہے کہ جہاں انسان اپنی خوشی پر خوش ہوتا ہے وہیں اگر ناپسندیدہ اور اپنی توقعات سے مختلف امور دیکھ لے تو اسکے اندر غصہ بھی پیدا ہو جاتا ہے۔
کیونکہ غصہ ایک منفی جذبہ ہے جس پر بروقت قابو نہ پایا جائے تو ہم اکثر دوسروں کے ساتھ ساتھ اپنا بھی نقصان کر بیٹھتے ہیں اس لیے اسلام نے غصہ ضبط کرنے اور جوشِ غضب کے وقت انتقام لینے کی بجاے صبرو سکون سے رہنے کی تلقین کی ہے تا کہ معاشرہ انتشار کا شکار نہ ہو اور امن کا گہوارہ بن سکے۔
قرآن مجید میں غصہ نہ کرنے اور معاف کر دینے کی فضیلت کا بیان:
وَالَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ وَإِذَا مَا غَضِبُوا هُمْ يَغْفِرُونَ ﴿الشوری آیت نمبر 37﴾
ترجمہ : اور وہ جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائیوں سے بچتے ہیں اور جب غصہ آئے معاف کردیتے ہیں۔۔

غصہ ٹھنڈا ہونے کے بعد تو عموماًً لوگ معاف کر دیتے ہیں
لیکن اس آیتِ میں اللّٰہ تعالٰی نے اہلِ ایمان کی صفات میں سے اہم صفت یہ بیان کی ہے وہ حالتِ غضب میں معاف کرتے ہیں جو بہت ہمت اور جراءت کا کام ہوتا ہے۔
بلند ہمت اور بلند حوصلہ لوگ ہی اس شان کے مالک ہوتے ہیں کہ وہ اپنے اوپر ظلم کرنے والوں پر بھی شفقت کرتے ہیں

غصہ میں یوں نہ آؤ کہ غصہ حرام ہے
تم بات ہی سے بات کا دو سوچ کر جواب
(مائل)

سب سے پہلے ہمیں اپنے غصے کا دیکھنا ہوگا کہ آیا کیوں ہے؟

غصہ درحقیقت ایک توانائی (انرجی) ہے، ایک اندھی قوت ہے جسے اگر منضبط (کنٹرول) کرکے کسی مثبت اور تعمیری مقصد کےلیے استعمال کرلیا جائے تو یہی جذبہ جو ہم کو مصیبت معلوم ہوتا ہے، ہمارے لیے زندگی میں کامیابی کا عنوان بن جائے گا۔ یعنی کمال یہ نہیں کہ ہم نے غصے کو پی لیا، کمال یہ ہے کہ ہم غصے کو چینلائز (Channelize) کرنا سیکھ لیں۔
اس حوالے سے واصف علی واصفؒ کا یہ قول معنویت سے بھرپور ہے کہ:
”کم ظرف کا غصہ اسے کھا جاتا ہے اور اعلیٰ ظرف کا غصہ اسے بنا جاتا ہے۔“
اوریہ اعلیٰ ظرفی مقصدیت کے شعور سے پیدا ہوتی ہے، یعنی جس انسان کی زندگی میں کوئی برتر اور اعلیٰ مقصد ہوگا وہ اپنے غصے کو اس مقصد میں کامیابی کےلیے استعمال کرے گا۔
ہم نے دیکھا ہے کہ بہت سے لوگ کسی خاص شعبےمیں صرف اس لیے کامیاب ہوئے کیونکہ انہیں زندگی میں کسی نے یہ طعنہ دیا کہ تم فلاں کام نہیں کرسکتے، اور انہوں نے اسے اپنی توہین سمجھتے ہوئے اُس کام میں مہارت حاصل کی اور طعنہ دینے والوں کو غلط ثابت کردکھایا۔
ہم کو محسوس ہوتا ہے کسی نے ہماری قدر نہیں پہچانی، ہم کو کہیں بلاجواز اور بے قصور ذلیل و رسوا کردیا گیا،
ہم غصے سے بےقابو ہورہے ہیں تو ٹھہر جائیں۔
ہمارا غصہ بالکل ٹھیک ہے، اسے ضائع ہونے نہ دیں۔

بعض اوقات اس قسم کے منفی واقعات ہوتے ہی اس لیے ہیں کہ قدرت ہمارے اندر چھپی مخفی صلاحیتوں کو باہر لانا چاہتی ہے۔ حالات و واقعات کی ٹھوکر ہم کو ہمارے اندر کے خزانے کا وہ نقشہ دکھا دیتی ہے جو عام حالات میں دکھائی نہیں دیتا لہٰذا غصے کو ضبط (Manage) کریں۔
اپنی زندگی کےلیے کوئی اعلیٰ مقصد تلاش کریں
اور اپنے وقت اور صلاحیتوں کو اس کے حصول میں جھونک دیں۔
اپنی توانائیوں کو کسی بامقصد کام کےلیے وقف کردیں
اور اپنے کام سے ثابت کر دکھائیں کہ ہم کسی سے کم نہیں!
ہم یاد رکھیں کہ عمل کا تعلق حقیقتاً جذبے سے ہے نہ کہ صحت و طاقت سے۔
مواقع ہمارے منتظر ہیں۔
اگر انسان کے اندر کوئی کام کرنے کی آگ بھڑک اُٹھے تو وہ ہر حال میں اُس کام کو کر ڈالتا ہے خواہ حالات کیسے ہی ناموافق کیوں نہ ہوں، خواہ وہ بسترِ مرگ پر ہی کیوں نہ پڑا ہو۔(اقتباس)

اس کے بعد آتا ہے اسکو کنٹرول کرکے مثبت اقدام کرنا
یہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم اسکا استعمال کہاں اور کیسے کریں ۔۔

بہت کم بولنا اب کر دیا ہے
کئی موقعوں پہ غصہ بھی پیا ہے
(شمس تبریزی)

پروردگار ہم سب کو غصہ کنٹرول کرنے کی توفیق عطا فرما
آمین یا رب العالمین

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
"روبی عابدی “

“”غصہ کو کنٹرول کرنا یا اظہار کرنا “” پر 2 تبصرے

تبصرہ کریں