قضا و قدر میں قدر کیا ہے؟

کل ایک خواھر نے کا سوال کیا تھا کہ:

سوال: اللّٰہ تو اپنے علم سے یہ بھی جانتا ہے کہ یہ بندہ توبہ کر لے گا اُس کا گناہ معاف ہو جائے گا..

یا یہ کہ کوئی بڑی پریشانی جو مقدر میں ہے وہ اس شخص کے صدقہ دینے سے ٹل جائے گیمالک کو تو معلوم ہوگا نہ کہ یہ شخص صدقہ دے گا؟؟

انکو جواب تو دیا لیکن اس کے بعد بھی دماغ میں یہی باتیں موجود تھیں کہ اسکا کوئی آسان طریقہ ہونا چاہئے کہ آج کے بچے بھی اسکو سمجھ لیں اسی تانے بانے میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ٹی وی پہ نظر پڑی

جہاں ہمارا بیٹا (حسنی) ہمارے ہی پاس بیٹھا ہوا play station پہ Assassin’s Creed گیم کھیل رہا تھا تھوڑی دیر اسکو دیکھتے رہے پھر جیسے خودبخود ساری گتھی سلجھتی چلی گئی صرف اسی گیم میں نہیں تقریبا ہر گیم میں اسی طرح ہوتا ہے کہ

ہر اسٹیپ (قدم) پہ ایک ساتھ بہت سے آپشنز ہوتے ہیں

کہ اگر یہ شخص اسطرف گیا تو اس کے ساتھ الگ الگ واقعات ہوں گے مثلا چار راستے ہیں ایک طرف دریا ہے دوسری طرف میدان ہے تیسری طرف شہر کی بلڈنگز ہیں چوتھی طرف پہاڑ ہیں اب گیم بنانے والے نے چاروں طرف الگ الگ سیٹ اپ کیا ہوا ہے ہر راستے میں اس کے ساتھ اچھا بھی ہوسکتا ہے اور برا بھی، اب اختیار اس گیم کھیلنے والے کو دے دیا کہ اگر دریا کی طرف گئے تو کشتی تو مل جائے گی مگر راستے میں مگرمچھ سے مقابلہ بھی ہے اگر میدان کی طرف گیا تو وہاں گھوڑا تو مل جائے گا مگر دوسری مشکلات ہوں گی صحرا ملے گا دشمن ملیں گے

اگر پہاڑ کی طرف گیا تو ڈاکوؤں سے بھی مقابلہ ہوسکتا ہے

شہر کی بلڈنگز کی طرف رخ کیا تو ٹریفک بھی ملے گا اور اپنے کو وہاں کے ہجوم سے بھی بچانا ہوگا ہوسکتا ہے وہاں کوئی ایکسیڈنٹ ہوجائے یا اسکی وجہ سے کوئی زخمی ہوجائے یا وہ خود زخمی ہوجائے

اب کھیلنے والے نے انتخاب خود کرنا ہے جو راستہ منتخب کیا اس میں آگے کا پلان گیم بنانے والے نے کیا ہوا ہے

اسی طرح اللّٰہ کے پاس بھی اربوں سے بھی زیادہ آپشنز موجود ہیں سب سیٹ اپ ہوا رکھا ہے لیکن اختیار انسان کو دیا کہ وہ کس راستے پہ چلتا ہے جس طرف کا راستہ اختیار کرے گا وہاں کی مشکلات، پریشانی، گناہ یا ثواب، صبر کی استطاعت اور شکر کرنے نہ کرنے پہ کیا ہوسکتا ہے یہ سب اختیار انسان کے پاس ہیں ہاں جو راستے کا انتخاب کیا ہے اس کی جزا و سزا پلان میں موجود ہے

بس یہی قدر کا سلسلہ ہے

تعمیرِ نو قضا و قدر کی نظر میں ہے

آج ایک زلزلہ سا ہر اک بام و در میں ہے

ہر اک ہے سوئے منزل جاناں رواں دواں

ہر ذرہ کائنات کا پیہم سفر میں ہے

(فضل کریم)

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى

(سورہ طہ-47)

التماسِ دعا "

"روبی عابدی"

“قضا و قدر میں قدر کیا ہے؟” پر 3 تبصرے

  1. جزاک اللّٰہ۔ اچھی کاوش ہے قضا و قدر کے بارے میں ۔ میری التماس ہے کے اگر اس قدر ضخیم قسم کے عناوین پہ قلم نگاری کا ارادہ ہو تو قاری کے لیے مقدماتی طور پر کجھ آیات قرآنی اور احادیث نبویؐ کو بھی بیان کر دیں – اور ساتھ ہی ان علماء کا ذکر کر دیں جنھوں نے اُس عنوان پر گھری تحقیق کی ہو۔ یقیقاً اس سے قاری کو عنوان سمجھنے میں کوئی دقّت در پیش نہ ہوگی۔ والسلام

    Liked by 1 person

    1. بہت اچھی تجویز ہے
      اگر آپ نے ہماری باقی تحریر بھی پڑھی ہوتی تو شاید یہ نہیں کہتے ہم ہمیشہ قرآن سے حوالہ دیتے ہیں اس پہ پہلے بھی لکھ چکے ہیں اور اس میں قرآن کی آیات سے حوالے تھے کچھ بچوں کی سمجھ میں نہیں آئی تو مزید اس طرح بیان کیا کہ وہ اچھی طرح سے منسلک کرسکیں آج کی ایجادات سے
      والسلام

      Liked by 1 person

Leave a reply to Balti Guru Baltistan جواب منسوخ کریں