(حصہ دوئم)
” حضرت فاطمہ زہرا (سلام اﷲ علیہا ) کون “
”حضرت فاطمہ زہراْ ہدایت کا چمکتا ہوا ستارہ“
رسول اسلام ۖ نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ سورج کے سراغ میں رہو ، جب سورج غروب ہو جائے تو شب میں چاند کے سراغ میں رہو ، جب چاندڈوب جائے تو زہرہ ستارہ کے سراغ میں رہو ، اور جب زہرہ بھی دکھائی نہ دے (چھپ جائے ) تو فرقدین کے سراغ میں رہو۔ اصحاب نے پوچھا : اللّٰہ کے رسول : سورج سے مراد کون ہے؟ فرمایا : میں ۔ انہوں نے کہا : چاند سے مراد؟ فرمایا : علی ، عرض کیا: زہرہ سے مراد کون ہے؟ فرمایا : حضرت فاطمہ زہرا ۔ پھر پوچھا : فرقدین سے مراد کون ہے؟ فرمایا حسن و حسین
(جوینی خراسانی، ابراہیم بن محمد، فرائد السمطین، تحقیق: محمد باقر محمودی، ج٢، ص١٧،حدیث ٣٦١، بیروت: موسسة المحمودی للطباعة و النشر ١٤٠٠ق.
حسکانی، حاکم؛ شواہد التنزیل لقواعد التفضیل، تحقیق: محمد باقر محمودی، ج١، ص٥٩، حدیث٩١، بیروت: موسسة الاعلمی للمطبوعات، ١٩١٣ق.)۔
”حضرت فاطمہ زہرارسول اللّٰہ کی پارہ تن“
اس سلسلے میں رسول اللّٰہ ۖ سے بہت زیادہ روایتیں نقل ہوئی ہیں جو اس مضمون کو بیان کرتی ہیں کہ حضرت فاطمہ زہرا (س) رسول اللّٰہ کے جسم کا ایک ٹکرا ہیں جس نے بھی فاطمہ زہرا (س ) کو اذیت پہچائی رسول کو اذیت پہچائی اور جس نے فاطمہ زہرا (س) کو خوشحال کیا اس نے رسول کو خوش کیا
(مسلم بن الحجاج القشیری، صحیح مسلم، ص٩٩٣، حدیث ٢٤٤٩، اخراج: فریق بیت الافکار الدولیہ؛ ریاض: بیت الافکار، ١٤١٩ق. بخاری، محمد بن اسماعیل، صحیح بخاری، ص٦٨٤، حدیث ٣٧٦٧، گردآوری: محمد محمود، طبع الثانیہ، بیروت: دارالکتب العلمیة، ١٤٢٣ق.
ترمذی، محمد بن عیسیٰ بن سورہ، سنن الترمذی؛ ص١٠٠٦، حدیث ٣٨٧٦، بیروت: دار احیاء التراث العربی؛ ١٤٢١ق.
سیوطی، جلال الدین، الثغور الباسمة فی فضائل السیدة فاطمة، ص٤٥، تحقیق: محمد سعید الطریحی، بیروت: دار العلوم، ١٤٠٨ق. ابن حجر عسقلانی، الاصابة فی تمییز الصحابة، تحقیق: عادل احمد عبد الموجود، ج٨، ص٢٦٥، بیروت: دار الکتب العلمیة، ١٤١٥ق.)
یہ تمام حدیثیں اس بات پر دلیل ہیں کہ رسول اللّٰہ کو کس حد تک حضرت فاطمہ زہرا (س) سے قلبی و عاطفی لگاؤ تھا ۔ دوسرے لفظوں میں یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا (س) پروردگار کی وہ فرمانبردار کنیز ہیں جو اللّٰہ و رسول کی اطاعت گزاری میں اس قدر مستحکم و خالص ہیں کہ ایک قدم بھی حق کے راستے سے دور نہیں ہیں ۔
اطاعت و پیروی اس درجہ پر فائز ہے کہ ان کی خوشنودی و رضا، رسول کی رضا ہے اور ان غضب رسول کا غضب ہے ۔
اسی وجہ سے رسول اللّٰہ نے فاطمہ زہرا (س ) کو پارہ تن سے تعبیر کیا ہے یعنی فاطمہ زہرا (س) رسول کے جسم کا ایک ٹکڑا ہیں ۔حضرت فاطمہ زہرا (س) کی اذیت کو اپنی اذیت اور ان کی خوشی کو اپنی خوشی بتا کر مسلمانوں کو پہچنوانا چاہتے ہیں تاکہ لوگ ان کی عظمت و منزلت سے آگاہ ہوجائیں۔
”حضرت فاطمہ زہرا (س ) قلب رسول ۖکی خوشحالی کا سبب“
پیغمبر اسلام ۖنے فرمایا : فاطمہ زہرا (س) میرے قلب کی فرحت و خوشی ہے اس کے فرزند میوہ قلب ، شوہر میری آنکھوں کا نور اور آئمہ طاہرین( جو کہ آل کی نسل سے ہیں ) خدا کے امین ہیں، یہ خالق و مخلوق کے درمیان وہ رسی ہیں جو انسان کو اللّٰہ سے جوڑتی ہے ۔ جو بھی ان سے متمسک رہے گا نجات پائے گا ۔ اور جو بھی ان سے دوری اختیار کرے گا وہ گمراہ ہو جائے گا . (ابن احمد مکی، موفق؛ مقتل الحسین خوارزمی، تحقیق: محمد سماوی، ج١، ص٩٩، حدیث٢١، قم: انوار الھدیٰ، ١٤١٨ق.)
فرمان رسول کے مطابق حضرت فاطمہ زہرا (سلام اﷲ علیہا ) کا پورا وجود رسول اسلام ۖ کی خوشحالی کا سبب ہے .( البتہ یہ حدیث ایک جہت سے حدیث ثقلین کی تفسیر بھی بیان کررہی ہے جو اہل علم و عمل کے لئے قابل فکرہے ۔)
اقتباس
(باقی آئندہ)
مل گئی ہے مجھکو جرأت ہو گیا بیباک بھی
مدحتِ زہراْ نے بخشی قوت ا دراک بھی
(عابد امروہوی)
پروردگار تمام خواتین کو اسوۂِ فاطمہ زہراْ پہ چلنے کی توفیق عطا فرما
آمین یا رب العالمین
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
“روبی عابدی”
