شہداء

بلوچستان کے علاقہ مچھ میں شیعہ ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے گیارہ محنت کشوں کی شہادتِ دلسوز بہت افسوسناک ہے
ہم سب اس واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہیں

اپنا لہو یتیم تھا کوئی رنگ لا نہ سکا
منصف سبھی خموش تھے عذر جفا کے سامنے

وہ شہید مشعل راہ بنتا ہےکہ جس کی شہادت اور مظلومیت کو اس کی ہم عصر نسلیں اور آئندہ نسلیں یاد رکھتی ہیں،
وہ شہید نمونہ عمل بنتا ہےکہ جس کا خون اچھل کر تاریخ پر محیط ہوجاتا ہے،
آج اس شہید کو بھی سلام جن کی آج برسی ہے

یہ فیض سیدالشہداء(ع) ہے نوع انساں پر
کہ ہر زمانے میں ظالم ہے بے وقار اب بھی

ایک قوم کی مظلومیت اس وقت ظلم و بربریت کے کوڑوں سے لہولہان قوموں کے جسموں پر مرہم رکھ سکتی ہےکہ یہ مظلومیت ندا بن جائے،
یہ مظلومیت دوسرے انسانوں کے کانوں تک پہنچے، یہی وجہ ہےکہ آج عالمی طاقتیں ایک دوسرے کی آواز سے آواز ملا کر چِلَّا رہی ہیں تاکہ ہماری آواز نہ سنی جا سکے، یہی وجہ ہےکہ خزانوں کے منہ کھولنے کےلئے آمادہ ہیں کہ یہ آواز دب جائے۔
استعماری طاقتیں آمادہ ہیں کہ جو کچھ ہے وہ لٹا دیں تاکہ شہداء کا نام و نشان اس زمانے اور آئندہ آنے والی قوموں کےلئے ایک سبق کی صورت میں باقی نہ رہ سکے اور اس کی شناخت مٹ جائے؛
تاہم آغاز میں لوگوں کو نہیں معلوم ہوتا کہ یہ واقعہ کتنا عظیم ہوتا ہے، جیسے جیسے وقت گزرتا ہے لوگ اس کی عظمت سے واقف ہوجاتے ہیں۔
شہیدوں اور شہادت کی یاد کا کردار یہ ہے کہ
شہادت بغیر تذکرہ، بغیر یاد کے،
شہید کے خون میں جوش و خروش کے بغیر اپنا اثر نہیں دکھاتی ہے

حیات لہو سے اجالنے والا
عزیمتوں کی نئی طرح ڈالنے والا
حسین(ع) اب بھی شب کذب میں سرِ آفاق
صداقتوں کا ہے سورج اچھالنے والا
زمینِ کربلا اب بھی ہے چشم دید گواہ
نہیں تھا حکم خدائی وہ ٹالنے والا
بنائے لا الہٰ سر دے کے کر گیا محکم
وہ گرتی قدروں کو دین کی سنبھالنے والا
وہی ہے ملت اسلامیہ کا کھےون ہار
بھنور سے ڈوبتی کشتی نکالنے والا
رضائے مولا پہ سب کچھ لٹا گیا
نيرٓ وہ خود کو حرف مشیت میں ڈھالنے والا

پروردگار ان شہداء کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرما
اور ان شہداء کے خون کو انصاف ملے
آمین یا رب العالمین

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
“روبی عابدی”

تبصرہ کریں