”لمحۂ فکریہ “

اندازِ بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اُتر جائے ترے دل میں مری بات
(علامہ اقبال)

آج ایک بہت ہی اہم مسئلے پہ پوسٹ ہے اس کا تعلق ہر گھر سے ہے
صرف غور کریں اور سمجھ میں آجائے تو خدارا عمل بھی کریں
کہا جاتا ہے بیٹیاں سانجھی ہوتی ہیں
تو دوسروں کی بیٹیوں کو بھی اپنی ہی بیٹیوں کی طرح سمجھا جائے
کیونکہ کسی کے عمل سے کتنے ہی گھروں میں ہماری بیٹیاں بیٹھی رہ جاتی ہیں
معاشرتی باتیں یعنی جہیز ( جو کہ ایک لعنت ہی ہے) اور حیثیت کے علاوہ جو سب سے اہم بات ہے وہ ہے شکل و صورت ۔
آج جو ہم کسی کے ساتھ کریں گے
وہ کل ہمارے گھر میں موجود بیٹیوں کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے
لوگ جو مکافاتِ عمل کا کہتے ہیں تو یہ ہے مکافاتِ عمل کہ ہم نے جہاں بھی کبھی بھی کسی بھی موڑ پہ کسی کا دل دکھایا ہے کل ہمارا اپنا بھی دل اسی طرح دکھ سکتا ہے
اگر ہمارے اپنے بیٹیاں نہیں ہیں صرف بیٹے ہیں تو بے فکر رہیں
ان بیٹوں کے بھی بیٹیاں ہوسکتی ہیں ان کی تکلیف ہمیں زیادہ تڑپائے گی
(یہ بددعا نہیں دے رہے بلکہ آئینہ دکھانے کی کوشش کررہے ہیں )

مائیں اپنے بیٹے کو چاہے وہ الٹا توا ہی کیوں نہ ہوں چاند کا ٹکڑا کہتی ہیں تو خدارا کسی دوسرے کے چاند کے ٹکڑے کو زمیں کی خاک نہ بنائیں

ان والدین کے لئے جو لمحہ بہ لمحہ بچیوں کو صرف ان کی شکل و صورت کی بناء پہ مسترد کرتی چلتی ہیں صرف یہ بتادیں کہ

ارشاد باری تعالی ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا يَسْخَرْ قَومٌ مِنْ قَوْمٍ عَسَى أَنْ يَكُونُوا خَيْراً مِنْهُمْ وَلا نِسَاءٌ مِنْ نِسَاءٍ عَسَى أَنْ يَكُنَّ خَيْراً مِنْهُنَّ وَلا تَلْمِزُوا أَنفُسَكُمْ وَلا تَنَابَزُوا بِالأَلْقَابِ بِئْسَ الاِسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الإِيمَانِ وَمَنْ لَمْ يَتُبْ فَأُوْلَئِكَ هُمْ الظَّالِمُونَ۔
(الحجرات 49:11)
اے ایمان والو! نہ تو مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ ہی خواتین، دوسری خواتین کا مذاق اڑائیں، ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ آپس میں ایک دوسرے پر طعن و تشنیع نہ کیا کرو اور نہ ہی ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کیا کرو۔ ایمان لانے کے بعد فاسقانہ نام بہت ہی بری بات ہے۔ جو لوگ اس روش سے توبہ نہ کریں، وہی ظالم ہیں۔]

بدصورت کہہ کے چلے جاتے ہو
مذاق انساں کا اڑاتے ہو یا مصور کا؟

کسی کی بھی بچی کو اس بنیاد پہ مسترد کرتے ہوئے ایک دفعہ اس پہ ضرور غور کیجئے گا کہ کہیں ہم مصور (اللّٰہ ) کا تو مذاق نہیں اڑا رہے؟

اللّٰہ کا خوف رکھتے ہوئے قدم اٹھائیں تو یقین کریں کہ انجام بہترین ہو گا
ان شاءاللّٰہ

ہماری دعا ہے پروردگار تمام بچوں کے نصیب میں بہتری فرما
آمین یا رب العالمین

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
“روبی عابدی”

“”لمحۂ فکریہ “” پر 1 تبصرے

Leave a reply to princessnadra جواب منسوخ کریں