”شرک کیا ہے“

(گذشتہ سے پیوستہ)
(تیسرا اور آخری حصہ )

شرک:-
شبِ سیاہ میں محفوظ ہم رکھیں خود کو
سیاہ چیونٹی کہیں چادرِ سیاہ پہ نہ ہو
(روبی فی البدیہ )

ایک جملہ کے اندر کہا جاسکتا ہے کہ شرک ، توحید کی ضد ہے اور جس طرح توحید کی مختلف اقسام ہیں، شرک کی بھی مختلف اقسام ہیں۔
ایک کلی تقسیم میں شرک کی دو قسمیں ہیں:
1۔ عقیده میں شرک۔
2۔ عمل میں شرک۔
عقیده میں شرک کی تین قسمیں ہیں:
1۔ الوہیت میں شرک : اللّٰہ کے علاوه کسی اور موجود پر اعتقاد رکھنا جو سارے صفات جمال و کمال کا مستقل طور پر حامل ہو۔ یہ اعتقاد کفر کا سبب ہے
اسی لئے پروردگار نے قرآن مجید میں سورہ المائدہ آیت 17 میں فرمایا:
لَقَدۡ کَفَرَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡمَسِیۡحُ ابۡنُ مَرۡیَمَ ؕ
‎بتحقیق وہ لوگ کافر ہو گئے جو کہتے ہیں: عیسیٰ بن مریم ہی خدا ہے

2- خالقیت میں شرک :
یعنی انسان عالم کیلئے دو خداؤں کا قائل ہوجائے ، جن کے ہاتھ میں عالم کا خلق اور اسکے امورکی تدبیر ہو ۔ بالکل اسی طرح جس طرح مجوسی (زرتشتی) "یزدان ” اور "اہرمن” کے قائل ہیں۔

3۔ ربوبیت میں شرک :
یعنی انسان یہ عقیده رکھے کہ عالم میں مختلف رب (پروردگار) ہیں اور اللّٰہ "رب الارباب” ہے اس معنی میں کہ عالم کی تدبیر مستقل طورپر مختلف پروردگاروں کے سپرد کی گئی ہے ۔ بالکل اسی طرح جس طرح حضرت ابراھیم کے زمانے میں مشرک اس طرح کے شرک میں مبتلا تھے اور ایک گروه ستاروں کو عالم کا مدبر جانتا تھا اور ایک گروه چاند کو اور دوسرا سورج کو ۔

4۔ عمل میں شرک:
عمل میں شرک کے معنی طاعت اور عبادت میں شریک ٹہرانے کے ہیں ۔

ہمارے لئے کائنات دو حصوں پر مشتمل ہے۔
ایک حصہ معبود کا ہے جس نے خلق کیا۔
دوسرا عابد کا جسے تخلیق کیا گیا۔
توحید یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی وجود اور کوئی مختار ہم کو نظر آنا بند ہو جائے۔
عبادت یہ ہے کہ غلام زندگی کے ایک ایک لمحے کو ان احکام کے مطابق گزارنے کی کوشش کرے جو آقا نے دیے ہیں۔ دن میں پانچ بار اس کی پاکی اور بزرگی بیان کرنے کو تسبیح و تحمید کہتے ہیں جو فرشتے ازل سے انتھک کرتے آئے ہیں اور کرتے رہیں گے۔
یہی عبادت ہے تو پھر رہ گئے ہم۔ ان کا مقابلہ نہیں ہو سکتا۔
لیکن اگر عبادت مالک کی غلامی میں زندگی گزار دینے اور اس کے حکم پر وہ کام کرنے کا نام ہے جو فرشتے نہیں کیا کرتے
تو پھر یہاں شرک بھی سر ٹیکنے اور جھکانے پہ مجبور ہوجائے گا
کیونکہ شرک اس کے علاوہ کچھ اور ہے۔ شرک اس مالک کی غلامی میں دوسرے مالک کو بھی ماننے کا نام ہے اور ایک مالک سے ہم وفادار نہیں ہوں گے اور اس اپنے مالک کو ہم دھوکا دے رہے ہوں گے دوسرے کو مالک تسلیم کرکے ۔۔

دل دنیا کا لوبھی ہے، بخش دے تو مولا(اللّٰہ )
میری غلطی جو بھی ہے، رکھ تو ہی بھرم مولا ( اللّٰہ )!
اپنے گناہ گِنوں، یا تیرے کرم مولا (اللّٰہ )!
تو قدرت والا ہے،
میری خطاؤں پر
کیا پردہ ڈالا ہے
(فرحت)

پروردگار سے دعا ہے کہ وہ ہمیں شرک کی تمام اقسام سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے،
آمین یا رب العالمین

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”

تبصرہ کریں