” شرک کیا ہے“

(گذشتہ سے پیوستہ)

شرک:-
شرک سب سے بڑا گناہ اس لیے ہے کہ ہم مالک بدل لیتے ہیں۔ جس نے ہم کو تخلیق کیا، جو ہمارے رگ پٹھے سے ہم سے بھی زیادہ واقف ہے، جس سے زیادہ ہمارا بھلا چاہنے والا کوئی نہیں

تو رگِ جاں سے بے شک ہے نزدیک تر
مجھ کو اتنی مسافت بھی مشکل لگی
(فرحت نواز)

شرک کی قسمیں ہیں:
1۔ عقیده میں شرک۔
2۔ عمل ( عبادت اور اطاعت ) میں شرک ۔
عقیدے میں بھی شرک کی قسمیں ہیں:
1۔ الوہت میں شرک: پروردگار کے علاوه ایک ایسے موجود پر اعتقاد رکھنا جو الہی صفات کا مستقل طورپر حامل ہو۔
2۔ خالقیت میں شرک: عالََم کیلئے دو مستقل خالقوں کا اعتقاد رکھنا۔
3۔ ربوبیت میں شرک: اس بات پر اعتقاد کہ عالَم کی تدبیر کے لئے مختلف پرورگار موجود ہیں۔

شرک کی بہت سی اقسام ہیں جیسے شرک خفی اور شرک جلی۔ اسی اعتبار سے ان کی شدت میں بھی فرق ہے۔ دانا انسان شرک کے معمولی امکان سے بھی میلوں دور رہنے کی کاوش کرتا ہے

عمل میں بھی شرک کے اقسام ہیں:
1۔ شرک جلی( نمایاں شرک)

2۔ شرک خفی( مخفی (چھپا ہوا) شرک) جن کے بارے میں فقہ اور کلام کے علوم میں بحث ہوتی ہے۔
پروردگار "شرک” کی سب اقسام کو گمراہی جانتا ہے۔
اللّٰہ کی نسبت شرک عظیم ظلم ہے، جو کہ بخشش کے قابل نہیں۔
پروردگار قرآن مجید میں اپنے حبیب رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے ارشاد کرتا ہے (سوره انعام / 161)
‎قُلۡ اِنَّنِیۡ ہَدٰىنِیۡ رَبِّیۡۤ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ۬ۚ دِیۡنًا قِیَمًا مِّلَّۃَ اِبۡرٰہِیۡمَ حَنِیۡفًا ۚ وَ مَا کَانَ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ
کہدیجئے: میرے پروردگار نے مجھے صراط مستقیم دکھائی ہے جو ایک استوار دین ہے، (یہی) ملت ابراہیم (اور توحید کی طرف) یکسوئی کا دین ہے اور ابراہیم مشرکوں میں سے نہیں تھے۔
اسی طرح فرماتا ہے (سورہ یونس/105)
‎وَ اَنۡ اَقِمۡ وَجۡہَکَ لِلدِّیۡنِ حَنِیۡفًا ۚ وَ لَا تَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ
‎اور یہ کہ آپ یکسوئی کے ساتھ اپنا رخ دین کی طرف ثابت رکھیں اور مشرکوں میں سے ہرگز نہ ہوں۔

شرک جلی یعنی کھلم کھلا بالکل واضح شرک اور دوسرا شرک خفی ہے، یعنی چھپا ہوا اور پوشیدہ شرک۔
لیکن سانحہ دیکھئے کہ لوگوں نے شرک خفی کو شرک خفیف سمجھ لیا اور اس غلط فہمی میں مبتلا ہو گئے کہ اس کا معاملہ اتنا اہم نہیں جتنا شرک جلی کا ہے۔ شرک خفی کے معنی ہیں چھپا ہوا شرک۔
شرک خفی، شرک جلی سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ اس کے معاملے میں بہت زیادہ حساس اور چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ اس کو اس طرح سمجھ لیا جائے کہ کھلا دشمن زیادہ خطرناک نہیں ہوتا، کیونکہ اس کے بارے میں آدمی چوکس رہتا ہے، لیکن جو دشمن چھپا ہوا ہو، وہ زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔
یوں سمجھیں کہ شرک جلی جلد کا زخم ہے جو نظر آرہا ہے، ہم اس کو دیکھ رہے ہیں، اس پر توجہ دینا آسان ہے، بروقت اس کا علاج بھی ہوسکتا ہے،
لیکن شرک خفی (چھپا ہوا شرک) اندرونی کینسر ہے، جو اندر ہی اندر پھیلتا ہے اور آدمی اس سے غافل رہتا ہے اور جب اس کا پتہ چلتا ہے تو وہ ناقابل علاج ہوچکا ہوتا ہے۔
اس لئے شرک خفی کو سمجھنے کے لئے بڑی دقتِ نظر اور دین کے گہرے مطالعہ کی ضرورت ہے۔

آخیر میں دعا ہے کہ
میرا دنیاوی خداؤں کے لیے نہ سر جھکے
کاش اتنی تو میرے ایمان میں حدت رہے!
(فرحت)

(باقی آئندہ)

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”

تبصرہ کریں