”شرک کیا ہے“

(پچھلے سال یہ پوسٹ کی تھی آج کل کچھ شرکیہ کلمات زبان زدعام ہیں ان کو مدِنظر دوبارہ یہ پوسٹ شیئر کررہے ہیں )

”حصہ اول“

شرک….
ناقابل معافی گناہ
“إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ ۚ وَمَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرَىٰ إِثْمًا عَظِيمًا”
“اللّٰہ اس بات کو معاف نہیں کرسکتا کہ اس کا شریک قرار دیا جائے اور اس کے علاوہ جس کو چاہے بخش سکتا ہے اور جو بھی اس کا شریک بنائے گا اس نے بہت بڑا گناہ کیا ہے”
(سورہ النساء /۴۸)
در حقیقت گناہ بھی مختلف بیماریوں کی طرح ہے جب تک بیماری بدن کے اصلی مراکز پر حملہ آور ہو کر انھیں بے کار نہیں کردیتی بدن کی دفاعی قوت صحت و بہبود کے لئے کار آمد رہتی ہے لیکن اگر مثال کے طور پر بیماری بدن کے اصلی مرکز یعنی دفاع پر حملہ کردے اور اسے مفلوج کردے تو امید کے دروازے بند ہو جائیں گے اور موت یقین کی صورت میں آکھڑی ہوگی ۔
شرک ایک ایسی ہی بیماری ہے جو روح انسانی کا حساس مرکز بے کار کردیتی ہے اور انسانی جان پر تاریکی و ظلمت کا چھڑکاؤ کرتی ہے ۔ اس کے ہوتے ہوئے نجات کی کوئی امید نہیں ہے ۔
لیکن اگر حقیقتِِ توحید اور یکتا پرستی جو ہر طرح کی فضیلت، جنبش اور تحریک کا سر چشمہ ہے زندہ ہو تو پھر دیگر گناہوں سے بخشش کی امید کی جا سکتی ہے
“اقتباس”
”شرک ہمارے اندر ایسے آتا ہے جیسے سیاہ رات میں سیاہ چادر پہ چلتی ہوئی سیاہ چیونٹی “
(کسی نے اس روایت کا حوالہ پوچھا ہے وہ یہاں دے رہے ہیں)
وَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ عَنِ الصَّفَّارِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ‏ مُوسَى الْخَشَّابِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ إِسْحَاقَ شَعِرٍ عَنْ عَبَّاسِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: قُلْتُ لَهُ إِنَّ هَؤُلَاءِ الْعَوَامَّ يَزْعُمُونَ أَنَّ الشِّرْكَ أَخْفَى مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ فِي اللَّيْلَةِ الظَّلْمَاءِ عَلَى الْمِسْحِ الْأَسْوَدِ فَقَالَ لَا يَكُونُ الْعَبْدُ مُشْرِكاً حَتَّى يُصَلِّيَ لِغَيْرِ اللَّهِ أَوْ يَذْبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ أَوْ يَدْعُوَ لِغَيْرِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ.
عباس بن یزید کہتے ہیں میں نے امام صادق ع سے عرض کیا کہ عوام کہتی ہے کہ شرک، تاریک رات کو کالے پتھر پر چیونٹی کی چال سے بھی زیادہ مخفی ہے۔ امام ع نے فرمایا: کوئی بندہ مشرک تب تک نہیں ہوتا جب تک غیر اللّٰہ کیلئے نماز نہ پڑھے یا غیر اللّٰہ کیلئے ذبح کرے یا غیر اللّٰہ سے دعاء کرے۔
(وسائل الشيعة / رقم الحديث: 34912)

جناب رسالت مآب سے ایک حدیث میں وارد ہوا ہے:
الشرک اخفی من دبیب الذر علی الصفافی اللیلة الظلما و ادناہ یحب علی شئی من الجور و یبغض علی شئی من العدل و ھل الدین الا الحب و البغض فی اللہ قال اللہ ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللّٰہ(تفسیرالمیزان (عربی متن) آیت قل ان کنتم تحبون اللّٰہ فاتبعونی کے ذیل میں)۔
شرک کی چال اس چیونٹی کی چال سے بھی زیادہ مخفی ہے کہ جو گھپ اندھیری رات میں ایک صاف پتھر پر قدم جمائے آگے بڑھ رہی ہے۔ سب سے چھوٹا اور کم ترین شرک یہ ہے کہ انسان بہت معمولی ظلم کو پسند کرے اور اس پر راضی ہو جائے یا پھر بہت معمولی حد تک عدل سے دشمنی اختیار کرے۔ کیا دین اللّٰہ کے لئے دوستی اور اللّٰہ کے لئے دشمنی کے علاوہ بھی کوئی چیز ہے؟ خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے:
کہہ دو اے رسول! اگر تم اللّٰہ سے دوستی کے دعویدار ہو تو میری پیروی کرو (میرے ان احکامات کی پیروی کرو جو اللّٰہ کی طرف سے نازل ہوئے ہیں) اللّٰہ تم کو دوست رکھے گا۔”
(آیت اللّٰہ مکارم شیرازی کا مقالہ)
دوسرا اہل سنت کا حوالہ:
سید المرسلین ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ تم میں شرک چیونٹی کی چال سے بھی زیادہ مخفی ہوگا اور میں تمھیں ایک ایسی دعا بتاتا ہوں کہ اگر تم اسے پڑھتے رہے تو اﷲ تعالیٰ تم سے چھوٹے بڑے شرک کو دور کردے گا ۔ تم یہ دعا پڑھنا : اللّھمّ انّی أعوذبؤ أن أشرأ بأ وأنا أعلم ، وأستغفرأ لما لا أعلم ‘‘ ، (صحیح الجامع للالبانی : ۳۷۳۱ ) (زاد الخطیب ، جلد : ۲ ، صفحہ : ۵۱ ) ۔ نبی پاک ﷺ نے فرمایا کہ :’’ تم میں شرک چیونٹی کی چال سے بھی زیادہ مخفی ہوگا‘‘ ،

(شرک کی قسمیں ان شاءاللّٰہ اگلی پوسٹ میں )

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”

تبصرہ کریں