معاشرے کو اگر کوئی مناسب اسوہ نہ ملے تو معاشرہ غیر مناسب اسوہ اپناتا ہے
اور اسلام کی یہ خوبی ہے کہ اس نے ہمیں بہترین اسوہ،
رسول اللّٰہ کی شکل میں عطا کیا ہے
لَقَدْ کانَ لَکمْ فی رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ کانَ یرْجُوا اللَّهَ وَ الْیوْمَ الْآخِرَ وَ ذَکرَ اللَّهَ کثیراً۔
بے شک تمہارے لئے پیغمبرِ اسلام (صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم) کی ذات میں (پیروی کیلئے) بہترین نمونہ موجود ہے۔ ہر اس شخص کیلئے جو اللّٰہ (کی بارگاہ میں حاضری) اور قیامت (کے آنے) کی امید رکھتا ہے اور اللّٰہ کو بکثرت یاد کرتا ہے۔
( آیت تأسی سورہ احزاب کی 21 ویں آیت)
جس میں پیغمبر اکرمؐ کو اچھے اسوہ اور نمونہ کے طور پر پیش کیا ہے اور مسلمانوں سے ان کی پیروی کرنے کا حکم اور مخالفت کرنے سے اجتناب کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
اس آیت میں اللّٰہ تعالی، پیغمبر اکرمؐ کو ان لوگوں کے لیے بہترین اسوہ قرار دے رہا ہے جو اللّٰہ کی رحمت اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں
[مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۱۷، ص۲۴۱.]
اور دینوی اور اخروی ثواب کی توقع رکھتے ہیں کہ جو نیک عمل کا نتیجہ ہے جو لوگ ایک لحظہ بھی اللّٰہ کی یاد سے غافل نہیں ہوتے اور ہمیشہ اللّٰہ کا ذکر زبان پر ہوتا ہے۔
امید کو اللّٰہ کی اطاعت کا راستہ سمجھتے ہیں لہذا آیت کے مطابق مبدا اور معاد پر ایمان لانا اور ہمیشہ اللّٰہ کا ذکر کرنا پیغمبر اکرمؐ کی پیروی کا باعث ہے۔[مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۱۷، ص۲۴۳.]
اس پوری آیت کا مطلب یہ ہوا کہ رسول اللّٰہ کی زندگی اس شخص کے لیے اسوۂ حسنہ ہے اور وہی اس کا اتباع کر سکے گا اور وہی آپٌ کے نقش قدم پر چل سکے گا جو اللّٰہ کا طالب ہو اور جو آخرت میں سرخروئی چاہتا ہو اور جو کثرت کے ساتھ اللّٰہ کو یاد کرنے والا ہو. یہاں ” یرجو“ کا جو لفظ آیا ہے وہ نہایت لطیف ہے. اس میں طالب ہونے کا مفہوم شامل ہے‘ اور اللّٰہ سے ملاقات کا امیدوار ہونے کا مفہوم تو بالکل واضح ہے
جس کی وضاحت وَالْیَوْمَ الْاٰخِرَ سے مزید ہو گئی.
یہاں امیدواری میں اللّٰہ کی رحمت، اللّٰہ کی شفقت، اللّٰہ کی نظرِ عنایت کے جملہ مفاہیم شامل ہیں.
لِّمَنْ کَانَ یَرْجُوا اللّٰہَ وَالْیَوْمَ الْاٰخِرَ
جو اللّٰہ کی رضا کا امیدوار ہے اور جو یومِ آخرت میں سرخروئی کی توقع رکھتا ہے گویا اسے یقین ہے کہ یہ دن آ کر رہے گا اور جزا و سزا کے فیصلے ہو کر رہیں گے.
وَذَکَرَ اللّٰہَ کَثِیْرًا
اور جو اللّٰہ کو یاد رکھتا ہو کثرت کے ساتھ. یعنی وہ ہر کام اور معاملے میں اللّٰہ کے احکام اور اس کے اوامر و نواہی کا التزام و اہتمام کرتا ہو
اور زبان و قلب سے بھی اللّٰہ کو یاد کرتا ہو.
اور وہ اس بات کو ہر لمحہ اور ہر لحظہ قلب و شعور میں مستحضر رکھتا ہو کہ اسے یوم آخرت میں اللّٰہ کی عدالت میں پیش ہو کر اپنی اس دُنیوی زندگی کا حساب دینا ہے.
یہ تین شرطیں پوری ہوں گی تو اسوۂ محمدیٌ پر کسی درجے عمل پیرا ہونے کا امکان پیدا ہو گا.
محشر میں مل سکے گا سہارا رسول کا
اپنا لیا جو ہم نے طریقہ رسول کا
(شمسہ نجم)
ہماری دعا ہے کہ پروردگار ہم سب کو اسوۂ رسولٌ و اہلِ بیتِ رسولٌ پہ چلنے کی توفیق عطا فرما آمین یا رب العالمین
"وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”
