” زن مرید یا رن مرید!“

‎ہم نے اکثروبیشر اپنے ارد گرد زن مرید کا لفظ تو سنا ہی ہے
‎عام طور پر زن مرید یا رن مرید ہر وہ شخص کہلاتا ہے جو اپنی بیوی سے بے حد محبت کرتا ہو۔ ایسا مرد اپنی بیوی کا گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹاتا ہے، (جو کہ ہمیں سیرتِ آئمہ میں اور خصوصا امام علی علیہ السلام میں بھی ملتا ہے)
‎بیوی کی چھوٹی چھوٹی خواہشات کا خیال رکھتا ہے اورعموما اس کی ہاں میں ہاں ملاتا ہے۔ اردو لغت میں ایسے شوہر کے لئے اور بھی القابات ہیں جیسے بیوی کے اشاروں پر ناچنے والا، جورو کا غلام، زن پرست وغیرہ وغیرہ۔ زن عورت کو کہتے ہیں اور مرید کا مطلب ہے خواہش مند یا عقیدت مند۔
فارسی میں صنف نازک کو ’زن‘ کہتے ہیں۔
اس کا اطلاق کنواری اور شادی شدہ ہر دو خواتین پر ہوتا ہے۔ ہمارے یہاں جو بیوی کی ناز برداری کرے اسے ’زن مرید‘ کہتے اور مضحکہ اڑاتے ہیں۔
بقول ’ارشد علی خان قلق‘:
’ مَرࣿدوں میں آبرو نہیں کچھ زن مرید کی‘۔
فارسی کا ’زن‘ ہندی میں ’رن‘ ہے اور اس کے معنی میں عورت اور بیوی کے علاوہ رانی بھی شامل ہے۔
فارسی کے ’زن‘ سے ’زنان خانہ‘ ،ہندی میں ’رن‘ سے ’رنواس‘ کہلاتا ہے۔
ہندی کی رعایت سے اردو اور پنجابی میں ’زن مرید‘ کو ’رن مرید‘ بھی کہا جانے لگا (اقتباس) ۔

جبکہ اردو میں یہ لفظ ” زن مرید“ ہی ہے
ایک ’بزرگ زنانِ دیدہ‘ کا خیال ہے کہ تمام مرد عام طور پر ’زن مرید‘ ہوتے ہیں، جو نہیں مانتے وہ جھوٹ بولتے ہیں۔
اب شاعر ’مجید فضا‘ کے الفاظ میں ایک زن مرید کا شکوہ ملاحظہ کریں:

زن مریدی کا شرف پا کے بھی رنجور ہوں میں
قصہ درد سناتا ہوں کہ مجبور ہوں میں

اگر ایک شوہر اپنی بیوی کے کاموں میں تھوڑی بہت مدد کرتا ہے تو اس میں کیا برائی ہے؟
کیا برا ہے اگر ہفتے میں ایک بار وہ اپنی بیوی کی کھانا پکانے میں مدد کرتا ہے؟
یا باورچی خانے میں پڑے برتن دھو دیتا ہے؟
یا کپڑے دھوتے ہوئے اپنی بیوی کا ہاتھ بٹا لیتا ہے؟
یا کبھی کھانے کی کوئی چیز بنادیتا ہے؟

ان سب چھوٹے چھوٹے کاموں سے بیوی کو تو کوئی خاص فرق نہیں پڑتا اور نہ ہی شوہر کی مرادنگی میں کوئی کمی آتی ہے مگر ایک احساس کا رشتہ ضرور پیدا ہوتا ہے جو ایک دوسرے کے ساتھ دوستی کا سبب بنتا ہے اور احساس، دوستی اورعزت کا رشتہ سب سے بڑھ کر ہوتا ہے۔
بیوی کے ناز نخرے اٹھانا شوہر کا فرض ہے۔ ایک خاتون سارے گھر کا خیال رکھتی ہے تمام گھر والوں کا خیال رکھتی ہے، اس کا بھی تو کوئی خیال رکھنے والا ہونا چاہیئے نا!

ایک مرد اپنی ماں کی ہاں میں ہاں ملائے تو فرمانبردار،
اپنی بہنوں کی فرمائشیں پوری کرے ان کے نخرے اٹھائے تو باکمال اورعزت دار،
اپنی بیٹی کے لاڈ اٹھائے تو رفیق
مگر اپنی بیوی سے محبت کرے تو زن مرید؟

بیوی سے محبت اور حسن سلوک کا درس تو ہمارا مذہب بھی دیتا ہے۔
کم ہی افراد ہیں جو اپنی بیوی کے حقوق اس خوش اسلوبی کے ساتھ نبھانے میں کامیاب ہوتے ہیں ورنہ اس معاشرے میں تو مردوں کے لہجے میں سختی اور رعب ہی نظر آتا ہے۔
آخر میں ہم یہی کہنا چاہیں گے کہ یہ قطعاً مردانگی نہیں ہے کہ بیوی کو اپنا شریک حیات تصور کرنے کے بجائے ایک خدمتگار مشین تصور کیا جائے اور اس کے ساتھ انسانیت کا سلوک کرنے کے بجائے مشین یا حیوان جیسا سلوک کیا جائے۔
جبکہ گھروں کے کام کی ذمہ داری اس پہ شریعت نے بھی نہیں ڈالی ہے
آیت اللّٰہ سیستانی سے کئے گئے سوال کا جواب:
مرد بیوی کو گھر کے کام پر مجبور نہیں کر سکتا، گرچہ مستحب ہے کہ عورت گھر کے کام کو انجام دے ۔
لیکن ہمارے معاشرے میں مستحب کاموں کو واجبات کی طرح ادا کروایا جاتا ہے

ہماری دعا ہے پروردگار ہم سب کو سوچنے اور سمجھنے کی توفیق عطا فرما آمین یا رب العالمین

"وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”

تبصرہ کریں