قرآن میں ہو غوطہ زن اے مرد مسلماں
اللّٰہ کرے تجھ کو عطا جدت کردار
(علامہ اقبال)
سورہ حمد کی کچھ کلی اسباق کی طرف اشارہ:
۱۔ سورہ حمد کو «بِسۡمِ اللّٰہِ» سے شروع کرکے غیر اللّٰہ سے قطع تعلق کرلیتے ہیں۔
۲۔ «رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ» میں عالمین کہکر اپنے اور تمام موجودات کے درمیان رابطہ ایجاد کرتے ہیں۔
۳- «الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ» کہکر اپنے آپکو لطف الٰہی کے سایہ میں محسوس کرتے ہیں ۔
۴۔ اور «مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ»کے ذریعہ احساس کرتے ہیں کہ مملوک اور مربوب ہیں مالک نہیں ہیں اس لئے غرور و تکبر چھوڑ دیتے ہیں۔
۵۔ «مالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» کے ذریعہ آئندہ کی غفلت سے بیدار ہوجاتے ہیں ۔
۶۔ «إِيَّاكَ نَعْبُدُ» کہکر ریا اور شہرتِ طلبی سے دورہوجاتے ہیں۔
۷۔ «إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ» کے ذریعہ سپر پاور طاقتوں سے نہیں ڈرتے۔
۸۔ «أَنْعَمْتَ» کے ذریعہ سمجھ جاتے ہیں کہ تمام نعمتیں اللّٰہ کے ہاتھ میں ہیں ۔
۹۔ «اهْدِنَا» کے ذریعہ حق کے راستے کی درخواست کرتے ہیں ۔
۱۰۔ «صِراطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ» کے ذریعہ حق کے پیروکاروں کے ساتھ ہونے کا اعلان کرتے ہیں ۔
۱۱۔ «غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ» و لَا الضَّالِّينَ» کہکر باطل اور اہل باطل سے بیزاری کا اعلان کرتے ہیں ۔
تفسیرنور، آیۃ اللہ محسن قرائتی حفظہ اللّٰہ
خدا کو پا نہیں سکتا خدا کی ذات کا منکر
نہ جب تک دل سے نقص نا تمامی دور ہو جائے
خدا وہ ہے کہ جس کی عظمت و جبروت کے آگے
خود انسان سجدہ کرنے کے لیے مجبور ہو جائے
(احسان دانش)
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
”روبی عابدی“
