”وسوسہ شیطانی “

وَ لَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّیۡطٰنِ / یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّیۡطٰنِ ؕ

اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو۔/ ”اے ایمان والو! شیطان کے نقش قدم پر نہ چلنا

(البقرہ آیت 208 اور النور آیت 21 کا حصہ)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان کی پیروی کرنے کی صورت میں انسان کو امن و سلامتی میسر نہیں آتی، نہ تو اپنے ضمیر کی طرف سے اور نہ ہی معاشرے کی طرف سے۔ شیطان کا پیروکار دنیا میں بھی ہمیشہ بدامنی کا شکار رہتا ہے اور آخرت میں بھی اسے سکون میسر نہ ہوگا۔ أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیطَانِ الرَّجِیم،۔۔۔

فَاِذَا قَرَاۡتَ الۡقُرۡاٰنَ فَاسۡتَعِذۡ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیۡطٰنِ الرَّجِیۡمِ

(النحل /98)

پس جب آپ قرآن پڑھنے لگیں تو راندہ درگاہ شیطان سے اللّٰہ کی پناہ مانگ لیا کریں۔

شیطان سب سے زیادہ جس چیز سے خائف ہے وہ قرآن ہے کہ انسان اس سے ہدایت حاصل نہ کرنے پائے۔ لہٰذا قرآن پڑھتے وقت توجہ رہنی چاہیے کہ قرآنی معانی و مطالب کے بارے میں شیطان انسان کو شکوک و شبہات میں مبتلا نہ کر دے کہ یہ بات درآمد شدہ نظریات سے متصادم ہے۔ جدید سائنس و انقلابی افکار سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ اس طرح کے وسوسوں سے شیطان انسان کو اس چشمہ ہدایت سے محروم کر دیتا ہے۔ اگر اس قرآن سے ہدایت حاصل نہ کر سکا تو ہدایت حاصل کرنے کا کوئی اور موقع میسر نہیں آئے گا۔ صرف اعوذ باللّٰہ کہدینا کافی نہیں بلکہ دل و جان سے اللّٰہ کی پناہ میں جانا چاہیے پھر قرآن کے مطالب و مباحث کا مطالعہ کرنا چاہیے۔

سر چشمہ ہدایت، قرآن سے استفادہ کے لیے وسوسہ شیطانی ایک خطرہ ہے۔ (تفسیر الکوثر)

قرآن میں ہو غوطہ زن اے مرد مسلماں

اللّٰہ کرے تجھ کو عطا جدتِ کردار

(علامہ اقبال)

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى

(سورہ طہ-47)

التماسِ دعا

"روبی عابدی"

تبصرہ کریں