”غور و فکر “

قرآن کا مخاطب عقل و فکر ہے اور عقل و فکر سے کہا جارہا ہے
‎ (:الجاثیہ آیت نمبر 13)
‎لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ
غور و فکر کرنے والی قوم کے لئے ۔

‎اللّٰہ کی آیات سے معرفت حاصل کرنا ان لوگوں کے لیے ممکن ہے جو حق کی تلاش میں ہیں اور حق کو سمجھنا چاہتے ہیں
(الانعام آیت 98:)
لِقَوْمٍ يَفْقَهُونَ
سمجھنے والی قوم کے لئے ۔

ابابیلوں کی خواہش ہے مگر دل ابرہہ والے
ملے غیبی مدد کیسے کہ ہم مکر و دغا والے

زباں پہ ذکرِ مولا ہے ذہن میں فکرِ لیلٰی ہے
قدم ہیں جانبِ دوزخ بظاہر ہیں خدا والے

ہوس کی پیروی میں ہم تو ماضی بھول بیٹھےہیں
ہمارے آباء و اجداد تھے شرم و حیا والے

حقیقت تلخ ہے لیکن حقیقت تو حقیقت ہے
زباں پہ ترکِ دنیا ہے تہہ دل مبتلا والے

ہماری زندگی تو خودنمائی کے بھنور میں ہے
تعلق صالحیں سے ہے عمل پھر بھی خطا والے

عجب رسمِ حماقت ہے ہمارے شہر میں ہُدہُد
عدوئے دین کہلائیں علی اُلمرتضی والے
(ہدہد الہ آبادی)

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”

تبصرہ کریں